بجٹ26-2025: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 716 ارب روپے مختص
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
مالی سال 26-2025ء کے بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت بی آئی ایس پی کی کوریج کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، اسے عملی جامہ پہنانے کےلیے کفالت پروگرام کو 1 کروڑ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ اگلے مالی سال میں بی آئی ایس پی کے لیے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کے پچھلے سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ ہماری حکومت ایک جامع اور موثر سماجی تحفظ کے نظام کے ذریعے معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے تحفظ کےلیے پرعزم ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 25-2024ء میں بی آئی ایس پی نے کم آمدنی والے خاندانوں کو معاشی مشکلات سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں مزید بتایا کہ 592 ارب کے مختص فنڈز میں سے ایک کثیر رقم کے ذریعے 99 لاکھ مسحق خاندانوں کی غیر مشروط نقد امداد فراہم کی گئی۔اُن کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ 1 کروڑ 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ بی آئی ایس پی کے نشو ونما پروگرام کے 15 لاکھ ماؤں اور ان کے 16 لاکھ سے زائد بچوں کو نقد امداد اور غذائیت پر مبنی خصوصی خوراک فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت مالی شمولیت کے فروغ کےلیے سال بھر میں 2لاکھ 50 ہزار مستحقین کو فنانشل لٹریسی کی تربیت دی گئی۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بی ا ئی ایس پی کہا کہ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔