ایران سے جوہری معاہدے کے امکانات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
ٹیلیفونک گفتگو میں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران سے جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان گفتگو پیر کے روز فون پر ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری معاہدے نے نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔