حجاج کرام کی واپسی کا عمل شروع، جدہ سے پہلی پرواز اسلام آباد لینڈ کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: سعودی عرب سے پاکستانی حجاج کرام کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا، جدہ سے پہلی پرواز پی کے 732 اسلام آباد پہنچ گئی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر حاجیوں کا استقبال کیا، اس موقع پر محکمہ حج، سول ایوی ایشن اتھارٹی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موجود تھے۔ حجاج کرام نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے کئے گئے حج انتظامات کو سراہا۔
بجٹ سیشن ؛ اجلاس شروع؛ وزیر خزانہ بجٹ پیش کررہے ہیں
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حج کے دوران حکومت پاکستان نے عازمین کو بہترین سہولیات فراہم کیں، سعودی حکومت نے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر حجاج کو قابل تعریف سہولیات مہیا کیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ سال اس سے بھی بہتر انتظامات کرے گی، اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لئے عازمین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔