مودی حکومت پڑوسی ممالک کیساتھ بامعنی بات چیت میں ناکام ہے، شرد پوار
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
شرد پوار نے زور دیا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی پہلگام دہشت گردانہ حملے پر سیاست نہیں کریگی، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ انکی پارٹی، کانگریس اور بائیں بازو کیساتھ ملک کی بہتری کیلئے قومی سطح پر کام کرتی رہیگی۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بامعنی بات چیت کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پونے میں اپنی پارٹی کے 26ویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے دور میں ہندوستان کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ شرد پوار نے کہا کہ ہماری پارٹی نے کبھی بھی قومی مفاد سے متعلق مسائل پر سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہم نے حکومت پر تنقید نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ اس کے بجائے ہم نے زور دے کر کہا کہ ہم حملے کے جواب میں مرکز کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی طرح کی کارروائی کی حمایت کریں گے۔
بھارت کے سینیئر لیڈر شرد پوار نے کہا کہ تاہم آج پاکستان اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہو چکے ہیں، بنگلہ دیش، جو بھارت کی حمایت سے بنا تھا، ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہے، جہاں تک سری لنکا کا تعلق ہے، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات بھی مشکوک معلوم ہوتے ہیں لہٰذا ہم اعتماد کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندوستان کی اس وقت اپنے کسی پڑوسی کے ساتھ بامعنی بات چیت ہے، یہ بامقصد بات چیت کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں قیادت کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے، ملک کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
شرد پوار نے زور دیا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی پہلگام دہشت گردانہ حملے پر سیاست نہیں کرے گی، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی پارٹی، کانگریس اور بائیں بازو کے ساتھ ملک کی بہتری کے لئے قومی سطح پر کام کرتی رہے گی۔ دریں اثنا پارٹی کی ورکنگ صدر سپریا سولے نے، جنہوں نے حال ہی میں آپریشن سندور کے بعد مصر، قطر، ایتھوپیا اور جنوبی افریقہ جانے ہندوستانی پارلیمانی وفد کی قیادت کی تھی، کہا کہ ان ممالک کے رہنماؤں نے مہاتما گاندھی کو پیار سے یاد کیا اور نہرو کے دوروں اور تقاریر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا "آج بھی جب ہم دوسرے ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو وہ مودی کی بہت زیادہ بات کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شرد پوار نے نے کہا کہ کے ساتھ بات چیت
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔