صادق آباد میں درجنوں بچوں کے گردے چوری کرلیے گئے؛ حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کے شہر صادق آباد میں درجنوں بچوں کے گردے نکال لیے گئے اور یہ واقعہ اعضا کی چوری کا ہے۔
2 جون 2025 کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کئی بچے چارپائیوں پر لیٹے ہوئے نظر آرہے تھے اور ان کے پیٹ کے نچلے حصے پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ یہ بچے اعضا کی چوری، خاص طور پر گردے نکالنے کا شکار ہوئے ہیں۔
ایک پوسٹ میں لکھا گیا:
’’انتہائی افسوسناک واقعہ… صادق آباد، پنجاب میں پتھری کی سرجری کے بہانے 25 افراد کے گردے نکال لیے گئے۔‘‘
یہ پوسٹ تقریباً 78,000 افراد نے دیکھی، جبکہ یہی ویڈیو دیگر کئی اکاؤنٹس سے بھی ہزاروں بار دیکھی گئی۔
تیزی سے وائرل ہوتی پوسٹ کے دعوے کی حقیقت جاننے کےلیے اس کا فیکٹ چیک کیا گیا۔ فیکٹ چیک ٹیم نے سب سے پہلے ویڈیو کا ریورس امیج سرچ کیا تاکہ اصل ماخذ تلاش کیا جاسکے۔
فیکٹ چیک ٹیم کو کسی بھی معتبر ذرائع سے اعضا کی چوری کی کوئی تصدیق شدہ خبر نہیں ملی۔
البتہ ویڈیو کا ایک اسکرین شاٹ نجی ٹی وی چینل کی 31 مئی 2025 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پایا گیا جس کا عنوان تھا: ’’صادق آباد اسپتال میں 28 بچوں پر غلطی سے اپینڈکس کی سرجری‘‘
اصل معاملہ کیا تھا؟
رپورٹ کے مطابق، توحید میڈیکل کمپلیکس (صادق آباد، ضلع رحیم یار خان) میں درجنوں بچوں کو پیٹ درد کی شکایت پر لایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے غلط تشخیص کرتے ہوئے ان کی اپینڈکس کی غیر ضروری سرجری کردی۔
تحقیقات کے بعد اسپتال کو سیل کردیا گیا اور کیس کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید کارروائی کے لیے بھیج دیا گیا۔
نیوز چینل کی رپورٹ میں وہی ویڈیو مناظر شامل تھے جو وائرل کلپ میں نظر آرہے تھے، البتہ مختلف زاویے سے۔
حقیقت کیا ہے؟
یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ اصل میں یہ ویڈیو ان بچوں کی ہے جن پر صادق آباد کے ایک نجی اسپتال میں غلط تشخیص کی بنیاد پر غیر ضروری اپینڈکس کی سرجری کی گئی تھی۔
نتیجہ:
بچوں کے گردے چوری کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ ویڈیو میں گردے نکالنے یا اعضا کی چوری کے کوئی شواہد نہیں۔ یہ دراصل ایک طبی غفلت کا کیس ہے جہاں بچوں پر بلاوجہ اپینڈکس کی سرجری کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اعضا کی چوری کی سرجری کے گردے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔