data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی حکومت نے بچوں کے سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت کو محدود کرنے کے اقدامات پر غور شروع کر دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے زیر غور تجاویز میں انفرادی سوشل میڈیا ایپس کے استعمال پریومیہ زیادہ سے زیادہ 2گھنٹے کی حد مقرر کرنا اور باقی 22گھنٹے کا کرفیو شامل ہے۔ برطانوی وزیر ٹیکنالوجی پیٹر کائل نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ ایپس اور اسمارٹ فونز کی لت کی نوعیت کو دیکھ رہے ہیں۔ بچوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانے کی مہم چلانے والے ایک ادارے نے برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے میں تاخیر کر رہی ہے۔ ٹک ٹاک نے 2023 ء میں 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے بطور ڈیفالٹ 60 منٹ کی اسکرین ٹائم کی حد متعارف کرائی، حالانکہ اسے بند کیا جا سکتا ہے۔ انسٹاگرام ہر عمر کے صارفین کو اپنی حد مقرر کرنے کی دعوت دیتا ہے، جس کے بعد وہ باقی دن کے لیے بلاک رہنے کا انتخاب کر سکتے ہیں ، تاہم ایسے ٹولز کا استعمال کم ہے۔ایپل یا گوگل کے پیرنٹل کنٹرولز کے آپشن والدین کے لیے پہلے سے ہی دستیاب ہیں، لیکن ان کی افادیت انتہائی کم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی