ڈیری فارمرز کا خام دودھ کی فروخت کو سیلز ٹیکس رجیم میں شامل کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
کراچی:
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ میں سیلز ٹیکس کے تحت لائی گئی پالیسی میں ایسے تجارتی ڈیری فارمرز کو بھی شامل کیا جائے جو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ ہیں مگر ان کے خام دودھ کی فروخت پر تاحال سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
وزیر تجارت سردار جام کمال خان کو لکھے گئے ایک خط میں ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (ڈی سی ایف اے) کے صدر شاکر عمر گجر نے کہا کہ ایسے ڈیری فارمرز جو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں نہیں مگر ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں، انہیں اس وقت برابری کا میدان میسر نہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ برانڈ کے تحت فروخت ہونے والا دودھ اور کارپوریٹ فارم کی طرف سے فراہم کردہ دودھ کو تو سیلز ٹیکس کے دائرہ میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن رجسٹرڈ تجارتی کسانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کہ مویشی پالنے کے شعبے کے دستاویزی اور منظم طبقے کا حصہ ہیں۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان تجارتی ڈیری فارموں کو بھی سیلز ٹیکس ریجیم میں شامل کر لیا جائے تو وہ اپنی ان پٹ سیلز ٹیکس کو آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کرسکیں گے جس سے مالیاتی ریلیف ملے گا۔
ڈی سی ایف اے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید ڈیری فارمنگ پاکستان میں تیزی سے ترقی کرنے والا اہم شعبہ ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر مشاورت کے لیے ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کرے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن سیلز ٹیکس ٹیکس کے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز