بھارت و پاکستان کی جنگ بندی میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا کردار تھا، سنجے راوت
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مودی نے ابھی تک اپنا کردار واضح نہیں کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو جنگ بندی ہوئی ہے وہ امریکی صدر کے دباؤ میں ہوئی ہے یا نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ایک بار پھر بھارت و پاکستان کے درمیان سیز فائر پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج تک مودی حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے نہیں ہوئی۔ نریندر مودی نے منگل کو ساتویں آل پارٹی وفود سے ملاقات کی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں نریندر مودی نے ایک ایک کر کے تمام ممبران پارلیمنٹ کے تجربے کو سمجھا۔ شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت سے آج جب میڈیا نے نریندر مودی اور سات وفود میں شامل ارکان پارلیمنٹ کی ملاقات پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اس طرح کی تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، لیکن وزیراعظم نے ابھی تک اپنا کردار واضح نہیں کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو جنگ بندی ہوئی ہے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں ہوئی ہے یا نہیں، ملک جاننا چاہتا ہے۔
سنجے راوت نے کہا کہ اب تک 15 بار ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نریندر مودی پر دباؤ بنایا کہ جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی وفود بیرون ملک گئے اور واپسی پر نریندر مودی سے ملاقات کی لیکن ملک جاننا چاہتا ہے کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات چیت مودی اور وفد کے درمیان ہوئی ہے تو میں اسے اہمیت دوں گا۔ مغربی بنگال کی وزیراعلٰی ممتا بنرجی کی طرف سے "آزاد کشمیر" کے معاملے پر مودی حکومت پر تنقید پر سنجے راوت نے کہا "ملک کی 140 کروڑ عوام کے ذہن میں ایک بات تھی کہ مودی اب "آزاد کشمیر" کو لے لیں گے اور پاکستان کو ایسا جواب دیں گے کہ پاکستان دوبارہ اٹھ نہیں سکے گا"۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سنجے راوت کے درمیان ہوئی ہے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار