یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر ہے، شرجیل میمن WhatsAppFacebookTwitter 0 11 June, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز )سندھ کے سینئر وزیر اور وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے پنجاب کی صوبائی حکومت کے رویے کو متکبرانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر ہے۔سندھ کے سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ موجودہ حکومت پنجاب کا رویہ متکبرانہ اور سیاسی حق تلفیوں پر مبنی ہے، پنجاب کی حکومت نفرت اور تقسیم در تقسیم کی سیاست کو ہوا دینے لگی ہے، جو افسوس ناک امر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، بلدیاتی اداروں کی بات کی تو کیا غلط کہا؟ بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے یا پھر پنجاب میں عوام کو ان کا بنیادی حق دلانا جرم ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے اور ہم صرف سندھ تک محدود نہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت، مقامی حکومتوں اورعوامی نمائندگی کی بات کی ہے، پنجاب میں بلدیاتی ادارے فعال نہیں، نچلی سطح پر کوئی جواب دہ نظام موجود نہیں تو ہم خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہماری بھرپور سیاسی موجودگی ہے، ہمارے کارکن آج بھی گلی محلوں میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، پنجاب میں بلدیاتی نظام کی بحالی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی عوام کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صرف بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کرتی رہے گی اور ہم پنجاب کے عوام کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتے، مسلم لیگ (ن) پنجاب کے مینڈیٹ کی داعی ہے تو بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرواتی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بلدیاتی ادارے آئین میں موجود ہیں، اگر حکومت پنجاب بلدیاتی اداروں کو نہیں مانتی تو آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے، ملک کا بڑا صوبہ بلدیاتی اداروں کے بجائے کمشنری نظام کے تحت معاملات چلائے تو افسوس ناک عمل اور جمہوریت کے منافی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کل متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے وزیراعظم کل متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے بجٹ : ملٹری پنشن کی مد میں 66 ارب، سویلین پنشن کے بجٹ میں 9 ارب روپے کا اضافہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس ، وزرا اور پارلیمنٹیرینز کی بھاری بھرکم تنخواہوں پر وزیر خزانہ کا کیا موقف ہے؟ عیدالاضحی ،سی ڈی اے ورکرز کے اعزاز میں تقریب،وزیر داخلہ کی شرکت وزارت داخلہ کے تمام ذیلی اداروں کے مابین باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ امن کے لیے امریکا کو انڈیا کو کان سے پکڑ کر مذاکرات کی میز پر لائے، بلاول بھٹوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کہ پنجاب
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔