پی ٹی اے کا جعلی اور ٹیمپرڈ موبائل ڈیوائسز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 جون2025ء)پی ٹی اے کا جعلی اور ٹیمپرڈ موبائل ڈیوائسز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ای آئی کی غیر قانونی طور پر ٹیمپرنگ اور جعلی/پیچڈ موبائل ڈیوائسز کی فروخت کے خلاف کارروائی کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی ای) کے زونل آفس لاہور کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی ای) گوجرانوالہ کے تعاون سے گوجرانوالہ میں دو کامیاب چھاپے مارے گئے۔
پہلا چھاپہ گوگل ویلی موبائل پلازہ، ماڈل ٹاؤن میں مارا گیا، جہاں 19 ٹیمپرڈ/کلونڈ فونز برآمد ہوئے اور دکان مالک کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ دوسرا چھاپہ موسیٰ موبائل، مین مارکیٹ، گوجرانوالہ پر مارا گیا، جہاں 6 ٹیمپرڈ ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئیں، تاہم دکان کا مالک موقع پر موجود ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گیا۔(جاری ہے)
قبضہ شدہ فونز میں ایک ایسی ڈیوائس شامل تھی جس کا آئی ایم ای آئی ڈزنی موبائل سے منسلک تھا ط یعنی ایک ایسا برانڈ جو پاکستان میں دستیاب ہی نہیں۔
برآمد شدہ فونز میں گوگل پکسل، ون پلس، موٹرولا اور سیمسنگ S23 الٹرا شامل تھے، جن کے آئی ایم ای آئی کم قیمت ڈیوائسز کے طور پر دوبارہ ترتیب دیے گئے تھے۔ واقعہ کی ایف آئی آر درج کر لی گئی جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی اے غیر قانونی آئی ایم ای آئی تبدیلی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے۔ اس قسم کی سرگرمیاں قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرے کا باعث ہیں جس سے جرائم پیشہ افراد کو شناخت چھپانے، سائبر جرائم، مالیاتی دھوکہ دہی، اغواء اور دیگر سنگین جرائم میں مدد ملتی ہے۔پی ٹی اے کی عوام الناس سے گزارش ہے کہ جعلی موبائل فونز کی فروخت یا آئی ایم ای آئی ٹیمپرنگ سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ تاکہ ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ا ئی ایم ای ا ئی پی ٹی اے کے خلاف ا ئی ای
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔