پاکستانیوں کیلئے بیرون ملک روزگار پر ٹیکس کی نئی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئی ٹی ایکسپرٹ کنول چیمہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں فیئر ٹیکس رجیم موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غیرملکی کمپنی کسی پاکستانی کو ہائر کرتی ہے تو اسے ٹیکس نہیں دینا پڑتا، لیکن اگر پاکستانی کمپنی کسی پاکستانی کو ہائر کرے تو اسے ٹیکس دینا ہوتا ہے۔
کنول چیمہ کے مطابق اس وقت آئی ٹی ایکسپورٹ انکم 3.
انہوں نے کہا کہ ای کامرس اور آئی ٹی سیکٹر پر ٹیکس لگانا غلط ہے، بار بار پالیسیز تبدیل کرنے سے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پلیٹ فارمز چلانے کے لیے ڈالرز میں ادائیگیاں کرتے ہیں، ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اپنے ڈالرز ان ادائیگیوں میں استعمال کریں۔
کنول چیمہ نے کہا کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹیرینز آئی ٹی سیکٹر کی سمجھ نہیں رکھتے، دنیا آئی ٹی کی طرف جا رہی ہے جبکہ ہمارے یہاں اس پر بلاوجہ ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ٹی
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔