امریکہ میں مبینہ حملے کا منصوبہ، پاکستانی شخص کینیڈا سے امریکہ کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جون 2025ء) خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمد شاہزیب نامی اس 20 سالہ ملزم کو گزشتہ برس ستمبر میں کینیڈا میں گرفتار کیا گیا تھا۔
کریمنل کمپلینٹ کے مطابق شاہزیب نے نیویارک جا کر بروکلین میں واقع یہودیوں کے مرکز میں فائرنگ کا منصوبہ بنایا تھا۔ دہشت گرد گروپ داعش کی حمایت میں یہ فائرنگ سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل کے اندر کیے جانے والے حملے کو دو سال مکمل ہونے کے دن کی جانا تھی۔
امریکہ: انتخابات کے دن حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا افغان شہری گرفتار
امریکہ میں حملے کے منصوبہ ساز افغان ملزم کا ساتھی فرانس میں گرفتار
امریکی اٹارنی جے کلیٹون کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’اس شخص نے آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کی حمایت میں، خودکار ہتھیار استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو مارا جا سکے۔
(جاری ہے)
‘‘امریکی محکمہ انصاف کے مطابق شاہزیب نے اپنے ان منصوبوں کے بارے میں ایک ایسے شخص کو آگاہ کیا جو اصل میں قانون نافذ کرنے والا ایک اہلکار تھا اور جو اپنی شناخت خفیہ رکھے ہوئے تھا۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کینیڈا کے حکام نے اس شخص کو اورمزٹاؤن نامی علاقے سے حراست میں لیا، جو امریکی سرحد سے محض 19 کلومیٹر دور ہے۔
شاہزیب پر عائد کیے گئے باقاعدہ الزامات میں دہشت گرد قرار دی گئی ایک غیر ملکی تنظیم کو وسائل اور مادی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردانہ عمل کرنے کی کوشش شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگر اس شخص کے خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ادارت: امتیاز احمد
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔