بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے، ترجمان پیپلز پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز شازیہ مری نے وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری نے کہا کہ بجٹ سے ڈائریکشن سیٹ ہوتی ہے کہ آپ کے ریونیو کو حکومت کس طریقے سے خرچ کرے گی، حکومت نے کیا تخمینے لگائے ہیں اور اس کی ترجیعات کیا ہیں، بجٹ سے ان باتوں کا اندازہ ہوتا ہے اور ملکی معیشت کو ایک رخ ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وی ایکسکلیوسیو:2013 میں پیپلزپارٹی نے نواز شریف کو وزیر اعظم بنایا، شازیہ مری
اپنے بیان میں کہا ہے کہ مہنگی بجلی سے نجات کا واحد ذریعہ سول پینل تھا جس کو عوام سے دور کردیا گیا ہے، سولر پینل پر 18فیصد ٹیکس کو مسترد کرتے ہیں، موجودہ مہنگائی میں تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ بھی ناکافی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بیروزگاری سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہے، لوگوں کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں کوئی اختلاف نہیں ہے، شازیہ مری
شازیہ مری کا کہنا ہے کہ حیدرآباد، کراچی موٹروے کے لیے صرف 15 ارب مختص کرکے مذاق کیا گیا، 15 ارب روپے اس منصوبے کے لیے ناکافی ہیں، یہ منصوبہ اس رقم سے مکمل نہیں ہوگا، لگتا ہے کام بھی شروع نہیں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پیپلز پارٹی سولر پینل شازیہ مری مہنگائی وفاقی بجٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی سولر پینل شازیہ مری مہنگائی وفاقی بجٹ پیپلز پارٹی شازیہ مری
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔