چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بچوں سے مشقت کے خلاف شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
آج کا دن اس امر کی یاددہانی ہے کہ ہمیں ایک ایسے مستقبل کی جانب سفر جاری رکھنا ہے جہاں دنیا کا ہر بچہ محفوظ اور خوشحال ماحول میں پروان چڑھے۔
چائلڈ لیبر کے شکار بچے نہ صرف جنسی اور ذہنی تشدد کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان سے ان کی تعلیم کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔ انہیں ان کے بچپن سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
اس سال کا تھیم "پیشرفت واضح ہے تاہم اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے :آئیں اپنی کوششوں کی رفتار تیز کریں" ۔
اس سال چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عالمی دن پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال فنڈ کی جانب سے چائلڈ لیبر کے عالمی تخمینے اور رجحان کی رپورٹ ، 2025 شائع کی جارہی ہے جس سے ہمیں اندازہ ہو گا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کس قدر فعال ثابت ہو سکے۔
ترقی پذیر ممالک میں پرورش پا رہے بچے چائلڈ لیبر جیسے ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ایسے ممالک جو کہ سالہا سال سے جنگ اور جنگ جیسی صورتحال کا شکار ہیں وہاں بھی مشقت کا شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا اور متعلقہ عالمی اداروں کو ان علاقوں میں خصوصی طور پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان آئی ایل او کنونشن نمبر 138 جو کہ مشقت کرنے کی کم سے کم عمر سے متعلق ہے اور آئی ایل او کنونشن نمبر 181 جو کہ بچوں سے مشقت لینے کے بدترین طریقوں سے متعلق ہے، پر سختی سے کار بند ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 11 چائلڈ لیبر کی ہر قسم اور صورت کے انسداد کے حوالے سے ہے۔
مزید برآں پاکستان میں چائلڈ لیبر کے انسداد کے لئے قانون سازی بھی کی گئی ہے جیسا کہ، روزگار اطفال ایکٹ 1991, گھریلو کارکنوں کے حوالے سے 2002 کا ایکٹ ، نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال 2017, اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تحفظ اطفال ایکٹ 2018, جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018۔ تاہم ان قوانین کے نفاذ کے طریقہء کار کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت تمام صوبوں, تمام اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی پر زور دیتی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔
حکومت کا دانش سکول سسٹم ایک محفوظ ماحول میں مستحق بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ٹھوس طریقے سے کام کرنے کی ایک کوشش ہے۔ غذائی قلت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سرکاری اسکولوں میں غذائیت کے پروگرام بھی متعارف کروائے گئے۔
معاشرے سے چائلڈ لیبر کو روکنے اور اس کو مکمل ختم کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے ، تدریسی اداروں ، میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ آج کے دن میں چائلڈ لیبر کو روکنے اور اس کے مکمل انسداد کے لئے اپنے اور اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چائلڈ لیبر کے کے خلاف کرنے کی
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔