ہالی ووڈ پروڈیوسر جنسی زیادتی کے میگا کیس میں مجرم قرار؛ کڑی سزا کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
ہالی ووڈ کے معروف پروڈیوسر ہاروی وائنسٹین کو نیویارک میں جنسی جرائم کے میگا کیس کے دوبارہ ٹرائل میں مجرم قرار دیدیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک کی عدالت نے پروڈیوسر ہاروی وائنسٹین کو جنسی جرائم کے ری ٹرائل کے دوران 2006 کے ایک جنسی زیادتی کے الزام میں مجرم قرار دیدیا۔
عدالت نے ہاروی وائنسٹین کو جنسی جرائم کے دوسرے الزام سے بری کر دیا جب کہ تیسرے الزام پر جیوری کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔
اس متفرق فیصلے کو وائنسٹین کے متاثرین، پراسیکیوشن، اور خود وائنسٹین کے لیے جزوی فتح یا ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کو اداکاراؤں کو جنسی زیادتی مقدمے میں 2020 میں دی گئی 23 سال قید کی سزا کو 2024 میں نیویارک کورٹ نے کالعدم قرار دیدیا تھا۔
جس پر تین خواتین نے سزا کو بحال کرانے کے لیے نیویارک کی اپیل کورٹ میں درخواستیں جمع کرائی تھیں اور اب دوبارہ ٹرائل ہو رہا ہے۔
اگر دوبارہ ٹرائل میں وہ بے قصور ہوتے ہیں اور سزا انہیں مکمل طور پر پہلے کیس سے آزاد کردیتی ہے، تو بھی وہ 16 سال قید کے کیس میں جیل میں ہی رہیں گے۔
واضح رہے کہ ہاروی وائنسٹن پر 80 سے زائد خواتین نے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد ہی دنیا میں ’می ٹو مہم‘ شروع ہوئی تھی۔
73 سالہ وائنسٹین نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ وہ پہلے ہی کیلیفورنیا میں جنسی جرائم پر سزا کاٹ رہے ہیں، جہاں ان کی اپیل زیرِ سماعت ہے۔
وائنسٹین کا پہلا مقدمہ #MeToo تحریک کی ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں طاقتور شخصیات کو احتساب کا سامنا کرنا پڑا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنسی زیادتی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔