Juraat:
2026-07-24@08:09:41 GMT

پی ٹی آئی کاسٹی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ وریلی

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

پی ٹی آئی کاسٹی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ وریلی

(عمران خان ، بشریٰ بی بی سمیت اسیر رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ)
سینئر رہنمائوں، وکلا، خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت،مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی
خان کی رہائی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، آج بھی القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کرنے والے جج چھٹی پر چلے گئے، حلیم عادل شیخ کا خطاب

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سرپرست اعلی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی رہائی کے مطالبے پر پی ٹی آئی سندھ کی جانب سے سٹی کورٹ کراچی کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، آج بھی القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کرنے والے جج چھٹی پر چلے گئے۔ ایک سازش کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو چھٹی پر بھیج کر عمران خان کا مقدمہ نہ سنا گیا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کمزور ہو چکی ہے اور نوجوان وکلا کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔یہ تحریک جاری رہے گی اور عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال، پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر، پی ٹی آئی رہنما آفتاب جہانگیر، خرم شیر زمان، فہیم خان، ایڈووکیٹ ظہور الدین محسود، وومن ونگ سندھ کی صدر سرینا خان، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شبیر بئریسٹر احسن عادل شیخ، ایڈووکیٹ شعیب کھٹیان، پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی، جئپال چھابڑیا، ایڈووکیٹ نذیر اللہ محسود، ایڈووکیٹ منظور بھٹہ، ایڈووکیٹ خان زمان خٹک، ایڈووکیٹ نور ملک، پی ٹی آئی سندھ کی رہنما عائشہ رشید،انور مہدی، یوتھ ونگ کے مرکزی رہنما نثار خان و دیگر نے کی۔احتجاج میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں، وکلا، خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے عمران خان، بشری بی بی اور دیگر قائدین کی رہائی کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت تمام اسیر رہنماں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو جھوٹے مقدمات میں قید کیا گیا ہے جبکہ عدلیہ اور انصاف کے دروازے بند کیے جا چکے ہیں۔ جب انصاف دینے کا وقت آتا ہے، ججز چھٹی پر چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ کسی ڈیل کے ذریعے باہر آ سکتے تھے لیکن انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں قید کو ترجیح دی۔ ہم نے چوروں اور جعلی حکومتوں سے قوم کو نجات دلانی ہے۔ آج ۔ قوم انصاف پسند ججوں کے ساتھ کھڑی ہے، اور اگر عدلیہ نے حق و انصاف پر مبنی فیصلے نہ کیے تو قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سندھ کی رہائی کے چھٹی پر

پڑھیں:

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی