Juraat:
2026-06-03@03:02:00 GMT

پی ٹی آئی کاسٹی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ وریلی

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

پی ٹی آئی کاسٹی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ وریلی

(عمران خان ، بشریٰ بی بی سمیت اسیر رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ)
سینئر رہنمائوں، وکلا، خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت،مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی
خان کی رہائی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، آج بھی القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کرنے والے جج چھٹی پر چلے گئے، حلیم عادل شیخ کا خطاب

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سرپرست اعلی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی رہائی کے مطالبے پر پی ٹی آئی سندھ کی جانب سے سٹی کورٹ کراچی کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، آج بھی القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کرنے والے جج چھٹی پر چلے گئے۔ ایک سازش کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو چھٹی پر بھیج کر عمران خان کا مقدمہ نہ سنا گیا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کمزور ہو چکی ہے اور نوجوان وکلا کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔یہ تحریک جاری رہے گی اور عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال، پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر، پی ٹی آئی رہنما آفتاب جہانگیر، خرم شیر زمان، فہیم خان، ایڈووکیٹ ظہور الدین محسود، وومن ونگ سندھ کی صدر سرینا خان، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شبیر بئریسٹر احسن عادل شیخ، ایڈووکیٹ شعیب کھٹیان، پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی، جئپال چھابڑیا، ایڈووکیٹ نذیر اللہ محسود، ایڈووکیٹ منظور بھٹہ، ایڈووکیٹ خان زمان خٹک، ایڈووکیٹ نور ملک، پی ٹی آئی سندھ کی رہنما عائشہ رشید،انور مہدی، یوتھ ونگ کے مرکزی رہنما نثار خان و دیگر نے کی۔احتجاج میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں، وکلا، خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے عمران خان، بشری بی بی اور دیگر قائدین کی رہائی کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت تمام اسیر رہنماں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو جھوٹے مقدمات میں قید کیا گیا ہے جبکہ عدلیہ اور انصاف کے دروازے بند کیے جا چکے ہیں۔ جب انصاف دینے کا وقت آتا ہے، ججز چھٹی پر چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ کسی ڈیل کے ذریعے باہر آ سکتے تھے لیکن انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں قید کو ترجیح دی۔ ہم نے چوروں اور جعلی حکومتوں سے قوم کو نجات دلانی ہے۔ آج ۔ قوم انصاف پسند ججوں کے ساتھ کھڑی ہے، اور اگر عدلیہ نے حق و انصاف پر مبنی فیصلے نہ کیے تو قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سندھ کی رہائی کے چھٹی پر

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان