پی ٹی آئی کاسٹی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ وریلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
(عمران خان ، بشریٰ بی بی سمیت اسیر رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ)
سینئر رہنمائوں، وکلا، خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت،مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی
خان کی رہائی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، آج بھی القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کرنے والے جج چھٹی پر چلے گئے، حلیم عادل شیخ کا خطاب
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سرپرست اعلی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی رہائی کے مطالبے پر پی ٹی آئی سندھ کی جانب سے سٹی کورٹ کراچی کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، آج بھی القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کرنے والے جج چھٹی پر چلے گئے۔ ایک سازش کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو چھٹی پر بھیج کر عمران خان کا مقدمہ نہ سنا گیا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کمزور ہو چکی ہے اور نوجوان وکلا کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔یہ تحریک جاری رہے گی اور عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مسرور سیال، پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر، پی ٹی آئی رہنما آفتاب جہانگیر، خرم شیر زمان، فہیم خان، ایڈووکیٹ ظہور الدین محسود، وومن ونگ سندھ کی صدر سرینا خان، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شبیر بئریسٹر احسن عادل شیخ، ایڈووکیٹ شعیب کھٹیان، پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی، جئپال چھابڑیا، ایڈووکیٹ نذیر اللہ محسود، ایڈووکیٹ منظور بھٹہ، ایڈووکیٹ خان زمان خٹک، ایڈووکیٹ نور ملک، پی ٹی آئی سندھ کی رہنما عائشہ رشید،انور مہدی، یوتھ ونگ کے مرکزی رہنما نثار خان و دیگر نے کی۔احتجاج میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں، وکلا، خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے عمران خان، بشری بی بی اور دیگر قائدین کی رہائی کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت تمام اسیر رہنماں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو جھوٹے مقدمات میں قید کیا گیا ہے جبکہ عدلیہ اور انصاف کے دروازے بند کیے جا چکے ہیں۔ جب انصاف دینے کا وقت آتا ہے، ججز چھٹی پر چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ کسی ڈیل کے ذریعے باہر آ سکتے تھے لیکن انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں قید کو ترجیح دی۔ ہم نے چوروں اور جعلی حکومتوں سے قوم کو نجات دلانی ہے۔ آج ۔ قوم انصاف پسند ججوں کے ساتھ کھڑی ہے، اور اگر عدلیہ نے حق و انصاف پر مبنی فیصلے نہ کیے تو قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سندھ کی رہائی کے چھٹی پر
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔