عمران خان کی رہائی نظر نہیں آرہی‘ علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی نظر نہیں آرہی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی تحریک کے حوالے سے اپنی تیاریوں سے مطمئن ہیں، ہمیں پتا ہے بانی پی ٹی آئی نے کیا کہا ہوا ہے اور پارٹی رہنماؤں نے کیا کہا ہوا ہے، یہ اب تحریک روک نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم پر تمام دروازے بند کردیے گئے ہیں، جج مجبور ہیں، ہمیں سمجھ آرہی ہے، ان پر بہت دباؤہے، ہم ججز کویکجہتی دکھا رہے ہیں لیکن یہ بھی ان کوکافی نہیں پڑ رہی۔ علیمہ خان
نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کو کئی مہینوں تک قید میں ہی رکھناہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی آگے نظر نہیں آرہی ہے، اب پی ٹی آئی قیادت کی طرف دیکھیں گے کس طرح بانی پی ٹی آئی کورہاکرایاجائے گا۔
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علمیہ خان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کیساتھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔