WE News:
2026-06-03@04:58:10 GMT

کیا پنجابی قوم پرست بن سکتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

حالیہ عرصے میں پہلی بار پنجاب سے تعلق رکھنے والوں میں ’قوم پرستی‘ کا رجحان ابھرتا نظر آرہا ہے۔ اگرچہ یہ بہت معمولی سطح پر ہے مگر اس سے قبل یہ رجحان معمولی سطح پر بھی نہیں تھا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ان افسوسناک واقعات کا ردعمل ہے جو بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بلوچ دہشتگردوں کی جانب سے مختلف عرصوں میں پیش آئے ہیں۔ سو لازم ہے کہ اس پر بروقت بات کرلی جائے۔

ہم بات ذاتی تجربے سے شروع کریں گے۔ ڈھائی برس کے تھے جب والدین کی ہمراہی میں خیبر پختون خوا سے کراچی پہنچے تھے۔ اگلے 22 برس یہیں گزرے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک تواتر کے ساتھ سننا شروع کیا کہ پنجابی سب کھا گئے، دوسروں کے حصے کا خیال بالکل نہیں رکھتے۔

یہ بات ہم نے پختون، مہاجر اور سندھی سب سے سنی۔ دورانِ مطالعہ قومی تاریخ کے کچھ اہم واقعات بھی اس کی تائید کرتے نظر آئے۔ یوں ہماری بھی یہ رائے بن گئی کہ پنجابی سب کھا گئے۔ ایسے میں نومبر 1994ء میں بالکل غیر متوقع طور پر اسلام آباد منتقل ہوئے تو یہ پریشانی بھی ساتھ لائے کہ روزگار کے معاملےمیں پنجابی سے اپنا حصہ کیسے حاصل کریں گے؟ یہ تو سب خود کھا جاتا ہے۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد ایک پنجابی اللہ وسایا قاسم مرحوم نے پوچھا

’تم باقاعدہ کالم لکھنا کیوں شروع نہیں کر دیتے؟‘

’ہم یہاں نئے ہیں، تگڑے لنکس ابھی بنے نہیں۔‘

’میرے ایک دوست ہیں حامد میر، وہ روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر بن کر یہاں آئے ہیں ان سے بات کرتا ہوں۔‘

ہم کسی کام کے سلسلے میں اچانک کراچی آگئے تھے۔ یہیں اللہ وسایا کا فون آیا کہ حامد میر کہہ رہے ہیں ایک ماہ تک لکھ کر دکھاؤ۔ دیکھنا ہے کہ لکھ بھی سکتے ہو یا نہیں؟ یوں ہم نے پہلا کالم کراچی سے ہی لکھ کر فیکس کردیا۔ اگلے دن اللہ وسایا کی پھر کال آئی:

’میر صاحب کہہ رہے ہیں، وہ لکھ سکتا ہے۔ اس سے کہیے کالم کا عنوان سوچ کر بھیجے، اور باقاعدگی سے لکھنا شروع کردے۔‘

یوں ایک پنجابی نے دوسرے پنجابی سے بات کی اور اس پنجابی نے ہماری صورت تک دیکھے بغیر بطور کالم نگار ہمارا کیریئر شروع کروا دیا۔ سو حیرت کا پہلا جھٹکا ہمیں یہی لگا کہ بھئی کمال ہے۔ پنجابیوں نے تو کسی مطالبے کے بغیر ہی ہمارا ’حصہ‘ بنا دیا۔ صورتحال یہ ہوگئی کہ ہم اسلام آباد اس خیال کے ساتھ گئے تھے کہ سب کچھ تو پنجابی کھا جاتا ہے لہذا ہمیں جلد ہی واپس لوٹنا پڑے گا مگر ہمارا وہ قیام 25 برس پر محیط ہوگیا۔

دارالحکومت ہونے کے سبب اسلام آباد میں تمام صوبوں کے ہی نہیں بلکہ پنجاب کے تو ہر ضلع کے افراد ہوتے ہیں۔ سو ہم نے لگ بھگ ہر ضلع کا پنجابی اس عرصے میں خوب خوب چکھ رکھا ہے۔ ان 25 برسوں میں ہم سے ڈومیسائل کا پوچھا گیا نہ ہی مذہب و مسلک کا۔ قوم کا پوچھا جاتا تو بتادیتے کہ پختون ہیں، یوں رویوں میں مزید والہانہ پن آجاتا۔ پختون کلچر کے حوالے سے طرح طرح کے سوالات ہوتے۔ ہم جوابات دیتے تو دلچسپی سے سنتے بھی جاتے اور سراہے بھی جاتے۔

ہمارے حلقہ یاراں میں اب بڑی تعداد میں پنجابی بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے دوستوں کے ساتھ آپ کا روٹھنا منانا بھی چلتا ہے۔ سو ان کے ساتھ بھی تعلق ہر رنگ سے گزرا۔ مگر ان کی جس بات کی ہم محشر میں بھی گواہی دے سکتے ہیں، یہ ہے کہ ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پنجابی دوست کے نامناسب رویے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ یہ اس لیے روا رکھا گیا کہ ہم پختون ہیں۔ امید ہے آپ کو سمجھ آچکا ہوگا کہ پنجابیوں کی کوئی قوم پرست تنظیم کیوں نہیں؟ اور جب ایک بار نعرہ لگا کہ جاگ پنجابی جاگ ! تو وہ نعرہ فوراً ہی دفن کیوں ہوگیا؟

پنجابیوں کے برخلاف پختونوں میں قوم پرست تنظیمیں بھی ہیں اور قومیت کی گفتگو بھی۔ یہ سندھیوں اور بلوچوں میں بھی ہیں مگر ہم صرف اپنی بات کریں گے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ پختونوں کی گھنٹہ بھر کی بیٹھک ہو اور پختون قومیت کا فخریہ ذکر نہ ہو۔ اس سے بظاہر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ یہ قوم مجموعی طور پر شدید قسم کی قوم پرست ہے۔ مگر یہ تاثر غلط ہے۔ پنجابیوں کے مقابلے میں پختونوں کے ہاں اپنی قومیت کا ذکر بکثرت اس لیے ملتا ہے کہ وہ قبائلی معاشرہ ہے۔ ہر قبیلے کی روایات ہی نہیں بلکہ زبان تک میں فاصلے کے تناسب سے فرق ہے۔ مثلاً ہم تورغر کے ہیں۔ کوہاٹ سے آگے زیارت تک کی پشتو سمجھنے کے لیے ہمیں دماغ پر بہت زور ڈالنا پڑتا ہے۔ خدا گواہ ہے بسا اوقات پلے ککھ نہیں پڑا ہوتا مگر سر یوں ہلا رہے ہوتے ہیں جیسے وہ بھی سمجھ چکے ہوں جو ابھی کہا بھی نہیں گیا۔

اسی طرح روایات میں بھی بہت واضح فرق ہے۔ لیکن یہی فرق سوات کے معاملے میں خاصا کم ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا ہم سے فاصلہ کم ہے۔ پھر سب سے اہم یہ کہ فرق محض روایات اور زبان کا ہی نہیں بلکہ علاقے کا بھی ہوتا ہے۔ ہر پختون قبیلے کا اپنا مستقل جغرافیہ بھی ہے۔ یوں ہر قبیلہ نہ صرف اپنی جغرافیائی حدود بلکہ زبان اور روایات پر بہت سختی سے فوکسڈ ہوتا ہے۔اسی لیے پختون اپنے قبیلے اور روایات کا ذکر بکثرت کرتے ہیں۔ اس ذکر سے یہ درحقیقت اپنی حدود ہی مستحکم کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی معیار کو ذہن میں رکھ کر آپ دنیا کے کسی بھی قبائلی معاشرے کا جائزہ لیں تو عین یہی صورتحال ملے گی۔ مثلا عرب تفاخر ہی دیکھ لیجیے۔ قبائلی معاشرہ ہے سو عربیت پر ناز زوروں پر ہے۔

مگر وہ جو سیاسی قسم کی ’قوم پرستی‘ ہوتی ہے جس پر صوبائیت کا رنگ غالب ہوتا ہے، وہ خیبر پختون خوا میں کتنی ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ اے این پی پاکستان کی ہم عمر جماعت ہے۔ مگر 75 برس میں یہ صوبائی اقتدار تک صرف ایک بار پہنچ پائی ہے اور وہ بھی اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے۔ خیبر پختون خواپر زیادہ عرصہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ نے حکومت کی ہے جو بنیادی طور پر سندھ اور پنجاب کی جماعتیں ہیں۔

اے این پی کی جڑیں تو اتنی کمزور ہیں کہ چارسدہ باچاخان فیملی کا گھر ہے۔ اسی چارسدہ کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر 1990ء کے انتخابات میں مولانا حسن جان شہید خان عبدالولی خان کو صرف شکست ہی نہیں دے چکے بلکہ ان کے سیاسی کیریئر کی فاتحہ خوانی بھی کرچکے۔ باچا خان کے صاحبزادے غنی خان ایک لیجنڈری پختون شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کا غالب حصہ مولویوں کے ہی خلاف ہے مگر ان کا قدآور بھائی اپنے آبائی حلقے میں ہی مولوی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوگیا۔ ذرا سوچیے، کیا کسی بھٹو کو لاڑکانے میں ہرایا جاسکا ہے؟

خیبرپختون خوا کے حوالے سے ایک اہم سیاسی نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ پختون قبائل پاکستان کی قومی سیاست میں قبائلی بنیاد پر دخل نہیں دیتے۔ یہ نہیں ہوتا کہ الیکشن سے قبل کسی پختون قبیلے کا جرگہ ہو رہا ہو، جس میں یہ فیصلہ ہونا ہو کہ اس قبیلے کے افراد آنے والے انتخابات میں کس پارٹی کو ووٹ دیں گے؟ ایسا قطعاً نہیں ہوتا۔ قومی سیاست کے معاملے ہر پختون شہری قبیلے کے کسی بھی دباؤ میں نہیں ہوتا لیکن جب کوئی جماعت پختون نیشنلزم کا جھنڈا اٹھا کر آتی ہے تو پختون سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی قیادت کس قبیلے اور علاقے کی ہے؟

یوں اگر ولی خان ہوئے تو صرف آبائی اور سسرالی پٹی کے پختون ہی حمایت کریں گے۔ باقی پختونوں کے لیے وہ ان کے قبیلے سے نہیں لہذا نیشنلزم پر حمایت نہیں ملے گی۔یہی حال آپ منظور پشتین کا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وزیرستان سے باہر ناکام ہیں کہ نہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ پختون قومیت کے فیصلے قبیلے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ سو غیر محسود اور غیر وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والوں کے پاس منظور پشتین کو مسترد کرنے کے لیے اتنی وجہ کافی ہے کہ وہ محسود ہیں۔ باچا خان فیملی کی چار نسلیں نیشنلزم کے ایجنڈے کے ساتھ ناکامی سے دوچار ہوئیں کہ نہیں؟ آپ پختون کے پاس نیشنلزم کا ایجنڈا لے کر جائیں گے تو باچا خان، خان عبدالولی خان، اسفندیار ولی خان اور ایمل ولی خان کی طرح مکمل ناکام ہوں گے۔ کیونکہ نیشنلزم کا لفظ سنتے ہی ہر پختون سب سے پہلے آپ کا قبیلہ پوچھے گا۔ آپ اس کے قبیلے سے نہیں تو دم پخت کھلا کر رخصت کردے گا مگر ساتھ کسی صورت نہیں دے گا۔

پھر وزیرستان والوں کا مسئلہ تو یوں مزید بھی سنگین ہے کہ اسی قوم کے افراد نے اپنے قبیلے کے بڑوں کو قتل کرکے وہاں دہشتگردی کا اڈہ قائم کرلیا تھا۔ اور قوم نے ذرا بھی پروا نہیں کی۔ جب تک وہاں دہشتگرد موجود رہے کوئی پی ٹی ایم بنی نہ ہی پختون حقوق کی بات ہوئی۔ لیکن جب دہشتگرد کچھ مارے گئے، کچھ بھاگ گئے تو انہیں اچانک اپنے حقوق یاد آگئے۔ جو اپنے قبیلے کے مشران کو نہ بچاسکے بلکہ الٹا ان کے قاتلوں سے سمجھوتہ کرگئے وہ پختون قوم کو حقوق دلاسکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ وزیرستان کو ایک بڑے کیاس کا سامنا ہے۔ قبیلے کے بڑے ہی نہیں بلکہ بااثر علماء کو بھی یہ خود قتل کرچکے۔ ان کے نوجوان کراچی میں سہراب گوٹھ سے لے کر بحریہ ٹاؤن تک کی پٹی میں موٹرسائیکل سواروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اور منظور پشتین کو لگتا ہے کہ اس کے کیاس زدہ قبیلے کو باقی قبائل اپنا قائد مان لیں گے۔ قومیت کے نام پر پختون قبائل نے باچاخان کے بڑے قد کاٹھ کو قبول نہیں کیا تو سہراب گوٹھ کا سابق دکاندار کیا بیچتا ہے؟

اس پورے پس منظر کے ساتھ پنجابیوں سے ہماری ہمدردانہ درخواست ہے کہ نیشنلزم والے چورن سے دور رہیے۔ یہ تو اس قبائلی پختون معاشرے میں بھی اپنی مارکیٹ نہ بنا سکا جہاں قبائلی تفاخر باقاعدہ کلچر کا حصہ ہے۔ آپ کی تو یہ سائیکی ہی کے خلاف ہے۔ آپ کی سائیکی یہ ہے کہ آپ اپنے دروازے باہر سے آنے والوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھتے ہیں۔ چنانچہ پنجاب کے ہر بڑے شہر میں پختونوں کی بڑی بڑی مارکیٹس قائم ہیں۔ اور یہ دروازے کھلے رکھنا آپ کی نفسیات میں اس شدت سے شامل ہے کہ آپ نے پچھلی صدیوں میں افغان، ترک اور برطانوی ایمپائر جبکہ حالیہ تاریخ میں امریکیوں کے لیے بھی دروازے کھول دیئے۔

ڈومیسائل چھوڑیے آپ تو اگلے کا غیرملکی ہونا بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ جبکہ قوم پرست تو سب سے پہلے دروازے بند کرتا ہے۔ بلوچ قوم پرستوں نے پنجابیوں کو قتل کرکے اپنے دروازے بند کرنے کی ہی تو کوشش کی ہے۔ آپ کرسکتے ہیں دروازے بند؟ اگر آپ کو لگتا ہے انہوں نے آپ کا نقصان کیا ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ قومیں اپنے کلچر اور روایات سے پہچانی جاتی ہیں۔ اب بلوچوں کی اگلی سات نسلوں کو یہ طعنہ سہنا پڑے گا کہ انہوں نے معصوموں نہتے پنجابیوں کا قتل اپنے گھر میں کیا تھا۔ان کی سفید بلوچ پگڑیاں اب ہمیشہ اس خون سے رنگیں رہیں گی۔اور یہ کبھی بھی یہ چھینٹیں نہ مٹا پائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہی نہیں بلکہ کہ پختون سکتے ہیں ہوتے ہیں قبیلے کے میں بھی کریں گے کے ساتھ ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان