کیا پنجابی قوم پرست بن سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
حالیہ عرصے میں پہلی بار پنجاب سے تعلق رکھنے والوں میں ’قوم پرستی‘ کا رجحان ابھرتا نظر آرہا ہے۔ اگرچہ یہ بہت معمولی سطح پر ہے مگر اس سے قبل یہ رجحان معمولی سطح پر بھی نہیں تھا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ان افسوسناک واقعات کا ردعمل ہے جو بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بلوچ دہشتگردوں کی جانب سے مختلف عرصوں میں پیش آئے ہیں۔ سو لازم ہے کہ اس پر بروقت بات کرلی جائے۔
ہم بات ذاتی تجربے سے شروع کریں گے۔ ڈھائی برس کے تھے جب والدین کی ہمراہی میں خیبر پختون خوا سے کراچی پہنچے تھے۔ اگلے 22 برس یہیں گزرے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک تواتر کے ساتھ سننا شروع کیا کہ پنجابی سب کھا گئے، دوسروں کے حصے کا خیال بالکل نہیں رکھتے۔
یہ بات ہم نے پختون، مہاجر اور سندھی سب سے سنی۔ دورانِ مطالعہ قومی تاریخ کے کچھ اہم واقعات بھی اس کی تائید کرتے نظر آئے۔ یوں ہماری بھی یہ رائے بن گئی کہ پنجابی سب کھا گئے۔ ایسے میں نومبر 1994ء میں بالکل غیر متوقع طور پر اسلام آباد منتقل ہوئے تو یہ پریشانی بھی ساتھ لائے کہ روزگار کے معاملےمیں پنجابی سے اپنا حصہ کیسے حاصل کریں گے؟ یہ تو سب خود کھا جاتا ہے۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد ایک پنجابی اللہ وسایا قاسم مرحوم نے پوچھا
’تم باقاعدہ کالم لکھنا کیوں شروع نہیں کر دیتے؟‘
’ہم یہاں نئے ہیں، تگڑے لنکس ابھی بنے نہیں۔‘
’میرے ایک دوست ہیں حامد میر، وہ روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر بن کر یہاں آئے ہیں ان سے بات کرتا ہوں۔‘
ہم کسی کام کے سلسلے میں اچانک کراچی آگئے تھے۔ یہیں اللہ وسایا کا فون آیا کہ حامد میر کہہ رہے ہیں ایک ماہ تک لکھ کر دکھاؤ۔ دیکھنا ہے کہ لکھ بھی سکتے ہو یا نہیں؟ یوں ہم نے پہلا کالم کراچی سے ہی لکھ کر فیکس کردیا۔ اگلے دن اللہ وسایا کی پھر کال آئی:
’میر صاحب کہہ رہے ہیں، وہ لکھ سکتا ہے۔ اس سے کہیے کالم کا عنوان سوچ کر بھیجے، اور باقاعدگی سے لکھنا شروع کردے۔‘
یوں ایک پنجابی نے دوسرے پنجابی سے بات کی اور اس پنجابی نے ہماری صورت تک دیکھے بغیر بطور کالم نگار ہمارا کیریئر شروع کروا دیا۔ سو حیرت کا پہلا جھٹکا ہمیں یہی لگا کہ بھئی کمال ہے۔ پنجابیوں نے تو کسی مطالبے کے بغیر ہی ہمارا ’حصہ‘ بنا دیا۔ صورتحال یہ ہوگئی کہ ہم اسلام آباد اس خیال کے ساتھ گئے تھے کہ سب کچھ تو پنجابی کھا جاتا ہے لہذا ہمیں جلد ہی واپس لوٹنا پڑے گا مگر ہمارا وہ قیام 25 برس پر محیط ہوگیا۔
دارالحکومت ہونے کے سبب اسلام آباد میں تمام صوبوں کے ہی نہیں بلکہ پنجاب کے تو ہر ضلع کے افراد ہوتے ہیں۔ سو ہم نے لگ بھگ ہر ضلع کا پنجابی اس عرصے میں خوب خوب چکھ رکھا ہے۔ ان 25 برسوں میں ہم سے ڈومیسائل کا پوچھا گیا نہ ہی مذہب و مسلک کا۔ قوم کا پوچھا جاتا تو بتادیتے کہ پختون ہیں، یوں رویوں میں مزید والہانہ پن آجاتا۔ پختون کلچر کے حوالے سے طرح طرح کے سوالات ہوتے۔ ہم جوابات دیتے تو دلچسپی سے سنتے بھی جاتے اور سراہے بھی جاتے۔
ہمارے حلقہ یاراں میں اب بڑی تعداد میں پنجابی بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے دوستوں کے ساتھ آپ کا روٹھنا منانا بھی چلتا ہے۔ سو ان کے ساتھ بھی تعلق ہر رنگ سے گزرا۔ مگر ان کی جس بات کی ہم محشر میں بھی گواہی دے سکتے ہیں، یہ ہے کہ ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پنجابی دوست کے نامناسب رویے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ یہ اس لیے روا رکھا گیا کہ ہم پختون ہیں۔ امید ہے آپ کو سمجھ آچکا ہوگا کہ پنجابیوں کی کوئی قوم پرست تنظیم کیوں نہیں؟ اور جب ایک بار نعرہ لگا کہ جاگ پنجابی جاگ ! تو وہ نعرہ فوراً ہی دفن کیوں ہوگیا؟
پنجابیوں کے برخلاف پختونوں میں قوم پرست تنظیمیں بھی ہیں اور قومیت کی گفتگو بھی۔ یہ سندھیوں اور بلوچوں میں بھی ہیں مگر ہم صرف اپنی بات کریں گے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ پختونوں کی گھنٹہ بھر کی بیٹھک ہو اور پختون قومیت کا فخریہ ذکر نہ ہو۔ اس سے بظاہر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ یہ قوم مجموعی طور پر شدید قسم کی قوم پرست ہے۔ مگر یہ تاثر غلط ہے۔ پنجابیوں کے مقابلے میں پختونوں کے ہاں اپنی قومیت کا ذکر بکثرت اس لیے ملتا ہے کہ وہ قبائلی معاشرہ ہے۔ ہر قبیلے کی روایات ہی نہیں بلکہ زبان تک میں فاصلے کے تناسب سے فرق ہے۔ مثلاً ہم تورغر کے ہیں۔ کوہاٹ سے آگے زیارت تک کی پشتو سمجھنے کے لیے ہمیں دماغ پر بہت زور ڈالنا پڑتا ہے۔ خدا گواہ ہے بسا اوقات پلے ککھ نہیں پڑا ہوتا مگر سر یوں ہلا رہے ہوتے ہیں جیسے وہ بھی سمجھ چکے ہوں جو ابھی کہا بھی نہیں گیا۔
اسی طرح روایات میں بھی بہت واضح فرق ہے۔ لیکن یہی فرق سوات کے معاملے میں خاصا کم ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا ہم سے فاصلہ کم ہے۔ پھر سب سے اہم یہ کہ فرق محض روایات اور زبان کا ہی نہیں بلکہ علاقے کا بھی ہوتا ہے۔ ہر پختون قبیلے کا اپنا مستقل جغرافیہ بھی ہے۔ یوں ہر قبیلہ نہ صرف اپنی جغرافیائی حدود بلکہ زبان اور روایات پر بہت سختی سے فوکسڈ ہوتا ہے۔اسی لیے پختون اپنے قبیلے اور روایات کا ذکر بکثرت کرتے ہیں۔ اس ذکر سے یہ درحقیقت اپنی حدود ہی مستحکم کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی معیار کو ذہن میں رکھ کر آپ دنیا کے کسی بھی قبائلی معاشرے کا جائزہ لیں تو عین یہی صورتحال ملے گی۔ مثلا عرب تفاخر ہی دیکھ لیجیے۔ قبائلی معاشرہ ہے سو عربیت پر ناز زوروں پر ہے۔
مگر وہ جو سیاسی قسم کی ’قوم پرستی‘ ہوتی ہے جس پر صوبائیت کا رنگ غالب ہوتا ہے، وہ خیبر پختون خوا میں کتنی ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ اے این پی پاکستان کی ہم عمر جماعت ہے۔ مگر 75 برس میں یہ صوبائی اقتدار تک صرف ایک بار پہنچ پائی ہے اور وہ بھی اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے۔ خیبر پختون خواپر زیادہ عرصہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ نے حکومت کی ہے جو بنیادی طور پر سندھ اور پنجاب کی جماعتیں ہیں۔
اے این پی کی جڑیں تو اتنی کمزور ہیں کہ چارسدہ باچاخان فیملی کا گھر ہے۔ اسی چارسدہ کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر 1990ء کے انتخابات میں مولانا حسن جان شہید خان عبدالولی خان کو صرف شکست ہی نہیں دے چکے بلکہ ان کے سیاسی کیریئر کی فاتحہ خوانی بھی کرچکے۔ باچا خان کے صاحبزادے غنی خان ایک لیجنڈری پختون شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کا غالب حصہ مولویوں کے ہی خلاف ہے مگر ان کا قدآور بھائی اپنے آبائی حلقے میں ہی مولوی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوگیا۔ ذرا سوچیے، کیا کسی بھٹو کو لاڑکانے میں ہرایا جاسکا ہے؟
خیبرپختون خوا کے حوالے سے ایک اہم سیاسی نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ پختون قبائل پاکستان کی قومی سیاست میں قبائلی بنیاد پر دخل نہیں دیتے۔ یہ نہیں ہوتا کہ الیکشن سے قبل کسی پختون قبیلے کا جرگہ ہو رہا ہو، جس میں یہ فیصلہ ہونا ہو کہ اس قبیلے کے افراد آنے والے انتخابات میں کس پارٹی کو ووٹ دیں گے؟ ایسا قطعاً نہیں ہوتا۔ قومی سیاست کے معاملے ہر پختون شہری قبیلے کے کسی بھی دباؤ میں نہیں ہوتا لیکن جب کوئی جماعت پختون نیشنلزم کا جھنڈا اٹھا کر آتی ہے تو پختون سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی قیادت کس قبیلے اور علاقے کی ہے؟
یوں اگر ولی خان ہوئے تو صرف آبائی اور سسرالی پٹی کے پختون ہی حمایت کریں گے۔ باقی پختونوں کے لیے وہ ان کے قبیلے سے نہیں لہذا نیشنلزم پر حمایت نہیں ملے گی۔یہی حال آپ منظور پشتین کا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وزیرستان سے باہر ناکام ہیں کہ نہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ پختون قومیت کے فیصلے قبیلے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ سو غیر محسود اور غیر وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والوں کے پاس منظور پشتین کو مسترد کرنے کے لیے اتنی وجہ کافی ہے کہ وہ محسود ہیں۔ باچا خان فیملی کی چار نسلیں نیشنلزم کے ایجنڈے کے ساتھ ناکامی سے دوچار ہوئیں کہ نہیں؟ آپ پختون کے پاس نیشنلزم کا ایجنڈا لے کر جائیں گے تو باچا خان، خان عبدالولی خان، اسفندیار ولی خان اور ایمل ولی خان کی طرح مکمل ناکام ہوں گے۔ کیونکہ نیشنلزم کا لفظ سنتے ہی ہر پختون سب سے پہلے آپ کا قبیلہ پوچھے گا۔ آپ اس کے قبیلے سے نہیں تو دم پخت کھلا کر رخصت کردے گا مگر ساتھ کسی صورت نہیں دے گا۔
پھر وزیرستان والوں کا مسئلہ تو یوں مزید بھی سنگین ہے کہ اسی قوم کے افراد نے اپنے قبیلے کے بڑوں کو قتل کرکے وہاں دہشتگردی کا اڈہ قائم کرلیا تھا۔ اور قوم نے ذرا بھی پروا نہیں کی۔ جب تک وہاں دہشتگرد موجود رہے کوئی پی ٹی ایم بنی نہ ہی پختون حقوق کی بات ہوئی۔ لیکن جب دہشتگرد کچھ مارے گئے، کچھ بھاگ گئے تو انہیں اچانک اپنے حقوق یاد آگئے۔ جو اپنے قبیلے کے مشران کو نہ بچاسکے بلکہ الٹا ان کے قاتلوں سے سمجھوتہ کرگئے وہ پختون قوم کو حقوق دلاسکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ وزیرستان کو ایک بڑے کیاس کا سامنا ہے۔ قبیلے کے بڑے ہی نہیں بلکہ بااثر علماء کو بھی یہ خود قتل کرچکے۔ ان کے نوجوان کراچی میں سہراب گوٹھ سے لے کر بحریہ ٹاؤن تک کی پٹی میں موٹرسائیکل سواروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اور منظور پشتین کو لگتا ہے کہ اس کے کیاس زدہ قبیلے کو باقی قبائل اپنا قائد مان لیں گے۔ قومیت کے نام پر پختون قبائل نے باچاخان کے بڑے قد کاٹھ کو قبول نہیں کیا تو سہراب گوٹھ کا سابق دکاندار کیا بیچتا ہے؟
اس پورے پس منظر کے ساتھ پنجابیوں سے ہماری ہمدردانہ درخواست ہے کہ نیشنلزم والے چورن سے دور رہیے۔ یہ تو اس قبائلی پختون معاشرے میں بھی اپنی مارکیٹ نہ بنا سکا جہاں قبائلی تفاخر باقاعدہ کلچر کا حصہ ہے۔ آپ کی تو یہ سائیکی ہی کے خلاف ہے۔ آپ کی سائیکی یہ ہے کہ آپ اپنے دروازے باہر سے آنے والوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھتے ہیں۔ چنانچہ پنجاب کے ہر بڑے شہر میں پختونوں کی بڑی بڑی مارکیٹس قائم ہیں۔ اور یہ دروازے کھلے رکھنا آپ کی نفسیات میں اس شدت سے شامل ہے کہ آپ نے پچھلی صدیوں میں افغان، ترک اور برطانوی ایمپائر جبکہ حالیہ تاریخ میں امریکیوں کے لیے بھی دروازے کھول دیئے۔
ڈومیسائل چھوڑیے آپ تو اگلے کا غیرملکی ہونا بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ جبکہ قوم پرست تو سب سے پہلے دروازے بند کرتا ہے۔ بلوچ قوم پرستوں نے پنجابیوں کو قتل کرکے اپنے دروازے بند کرنے کی ہی تو کوشش کی ہے۔ آپ کرسکتے ہیں دروازے بند؟ اگر آپ کو لگتا ہے انہوں نے آپ کا نقصان کیا ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ قومیں اپنے کلچر اور روایات سے پہچانی جاتی ہیں۔ اب بلوچوں کی اگلی سات نسلوں کو یہ طعنہ سہنا پڑے گا کہ انہوں نے معصوموں نہتے پنجابیوں کا قتل اپنے گھر میں کیا تھا۔ان کی سفید بلوچ پگڑیاں اب ہمیشہ اس خون سے رنگیں رہیں گی۔اور یہ کبھی بھی یہ چھینٹیں نہ مٹا پائیں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہی نہیں بلکہ کہ پختون سکتے ہیں ہوتے ہیں قبیلے کے میں بھی کریں گے کے ساتھ ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی