غزہ میں انسانی بحران پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، اسرائیلی ماہرین تعلیم
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسرائیلی اخبار کے مطابق 341 اسرائیلی ماہرین تعلیم نے اپنے پیغام میں اسرائیلی حکومت، فوج اور عوام کو مخاطب کیا اورکہا ہماری طرف سے کیے جانے والے اقدامات عالمی پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے 300 سے زائد ماہرین تعلیم نے غزہ مظالم کے خاتمے اور امداد کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق 341 اسرائیلی ماہرین تعلیم نے اپنے پیغام میں اسرائیلی حکومت، فوج اور عوام کو مخاطب کیا اور کہا ہماری طرف سے کیے جانے والے اقدامات عالمی پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسرائیلی ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ ہم اس پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، غزہ میں انسانی بحران فوری روکا جائے، طبی امداد، خوراک، پانی غزہ کے اندر جانے دی جائے اور نہتے شہریوں پر فائرنگ بند کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی ماہرین تعلیم بن سکتے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔