اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے سلسلے میں بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی مجوزہ نیلامی کو روک دیا۔ عدالت نے تکنیکی بنیادوں پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔

سینئر صحافی ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر اپنے پیغام میں انکشاف کیا کہ نیب کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی نیلامی کے لیے آج اشتہار جاری کیا گیا تھا، تاہم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن اور سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف سعید کھوسہ پر مشتمل بینچ نے کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیلامی کے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیا۔

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ادارہ نہ تو 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فریق ہے، نہ ہی ملزم یا اشتہاری، اس کے باوجود نیب نے اس کی جائیدادیں ضبط کر کے نیلامی کی کارروائی شروع کی، جو غیر قانونی ہے۔

عدالت نے نیب کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ سماعت تک بحریہ ٹاؤن کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہ کرے اور کیس کی سماعت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔

اہم خبر ، بحریہ ٹاؤن پراپرٹیز کی نیلامی اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کر کے تکنیکی طور پر روک دی ہوا کچھ یوں کہ بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز 190 ملین پاؤنڈ کیس کے معاملے میں آج نیب نے نیلام کرنا تھی اشتہار جاری ہو چکا تھا پھر اس کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبر سینئر…

— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 12, 2025

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پراپرٹیز کی اسلام آباد

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے