پیپلز پارٹی کا وفاقی بجٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیپلزپارٹی نے وفاقی بجٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور احمد نے کہا کہ یہ بجٹ صرف امیروں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں محنت کش طبقے، غریب عوام اور مزدوروں کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے ہر طبقے کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا، گویا تمام تر مالی بحران صرف غریبوں کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
چوہدری منظور نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی جلد ملک گیر سطح پر احتجاجی مہم کا آغاز کرے گی، اور اس مقصد کے لیے مختلف ٹریڈ یونینز سے رابطے تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہم ہر حد تک جائیں گے اور اس تمام صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، وزرا اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بے دریغ اضافہ ’مالی بے حیائی‘ کے مترادف ہے۔
چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ صرف اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، جب کہ عام آدمی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ایک جانب کسان بدترین حالات سے دوچار ہے اور دوسری طرف عالمی ادارے غربت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے کسی کو کوئی ریلیف دینے کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کو مزید تقویت دی ہے۔
انہوں نے پنشن ختم کرنے کے مجوزہ حکومتی فیصلے کو بھی سنگدلانہ اور مزدور دشمن قرار دیا اور کہا کہ ایک دہائی بعد محنت کشوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں پنشن سے بھی محروم کرنا ایک ظلم عظیم ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔