ایوان بالاء میں مشیروں اورکنسلٹنٹس کی بڑھتی تعداد پرسینیٹرزمیں تشویش کی لہردوڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جون2025ء) ایوان بالاء میں مشیروں اور کنسلٹنٹس کی بڑھتی تعدادپر سینیٹرز میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے اور سینیٹردینیش کمار نے چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی سے سرکاری دوروں اور مشیروں کی تعدادکی تفصیلات مانگ لی ہیں۔سینیٹر دینیش کمار نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے نام خط میں یوسف رضا گیلانی سے سرکاری دوروں اور مشیروں کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔
(جاری ہے)
اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ سینیٹرز کی ذمہ داریاں مشیروں کو تفویض کردی گئیں،سینیٹ کے سرکاری دوروں اور مشیروں کی تعداد کتنی ہی تفصیلات دی جائیں۔خط میںکہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سینیٹ کے بیرون ممالک دوروں کی مکمل تفصیلات دی جائیں،سینیٹ کے بیرون ممالک دوروں میں شفافیت نہ ہونے پر سینیٹرز میں تشویش پائی جاتی ہے۔خط کے متن کے مطابق تاثر ہے کہ دوروں میں سینیٹرز کے بجائے مشیروں کو اہم کردار دیا جاتا ہے، مشیر ذاتی تعلقات کے بنا پر بغیر تحقیق اور تجربے کے وفود میں نام شامل کرتے ہیں،سینیٹ میں مشیروں کی تعداد،مراعات،قابلیت،تقرری سمیت تمام تفصیلات دی جائیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مشیروں کی
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔