تباہ ہونے والے بھارتی طیارے میں 2 گھنٹے قبل سفر کرنے والے مسافر کا حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بھارتی شہر احمد آباد میں تباہ ہونے والے ائیر انڈیا کے طیارے میں حادثے سے قبل سفر کرنے والے ایک مسافر نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں شہری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 طیارے میں دہلی سے حیدرآباد پہنچا تھا۔
مسافر آکاش وٹسا نے انکشاف کیا کہ اُس نے حادثے ے شکار طیارے میں صرف 2 گھنٹے پہلے سفر کیا تھا اور کچھ غیرمعمولی چیزیں دیکھی تھیں۔
مسافر نے بتایا کہ میں نے بدانتظامی کی ویڈیو بھی بنائی۔ اے سی کام نہیں کر رہا تھا۔ لائٹ بھی بند اور ٹی وی اسکرینیں ناکارہ تھیں۔
آکاش نے اپنی ویڈیو میں ایئر انڈیا کا نام لیکر پوچھا کہ کیا یہ وہ سہولیات جو آپ مسافروں کو دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔
I was in the same damn flight 2 hours before it took off from AMD.
انھوں نے اپنی ایک اور پوسٹ میں کہا کہ ناقص کارکردگی اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اب وہ ایئر انڈیا سے دہلی واپس نہیں جائیں گے۔
یاد رہے کہ ایئر انڈیا کے بوئنگ طیارے 787 نے برطانیہ کے لیے اُڑان بھری اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں گر کر تباہ ہوگیا۔
طیارے میں موجود 241 مسافر ہلاک ہوگئے اور صرف ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ سکا۔ طیارے میں 53 برطانوی، 7 پرتگالی اور ایک کینیڈی مسافر تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا طیارے میں
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔