شمالی کوریا نے ٹرمپ کا خط وصول کرنے سے انکار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کورین ہم منصب کے ساتھ خط و کتابت کے خواہاں ہیں، تاہم دوسری طرف شمالی کوریا نے خط وصول کرنے ہی سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نیویارک میں شمالی کوریا کے سفارت کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک خط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کا مقصد واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان رابطوں کو بحال کرنا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے رد عمل میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران کم جونگ ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تھے، اب بھی وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن کے ساتھ بات چیت کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا صدر ٹرمپ 2018 ء کے سنگاپور سمٹ کی پیش رفت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ ٹرمپ کی 2017ء سے 2021 ء کی پہلی صدارتی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان 3 بار ملاقات ہوئی تھی، اور کئی بار خطوط کا تبادلہ کیا گیا تھا، جسے ٹرمپ نے خوب صورت قرار دیا تھا۔ جون 2019 ء میں ٹرمپ نے ایک غیر فوجی زون میں کم جونگ ان کے ساتھ ڈرامائی مصافحہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے مختصر دورانیے کے لیے شمالی کوریا میں قدم رکھاتھا اور ایسا کرنے والے وہ پہلے امریکی صدر بنے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔