اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، سابق سیکرٹری خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
شمشاد احمد خان نے انکشاف کیا کہ ایران خطے کا پہلا ملک تھا جسے 1957ء میں امریکہ نے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ واشنگٹن ایران کی جوہری صلاحیتوں اور اثاثوں سے بخوبی واقف ہے۔ وہ اسرائیل کو ایران کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ ایسی غلط مہم جوئی کی ہمت نہیں کرے گا، کیونکہ اس سے یورپ، جاپان اور امریکہ کے تمام اتحادیوں کو تیل کی سپلائی رک جائے گی۔ یہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کو تباہ کر دے گا، جسے امریکہ اپنی خطے کے بارے میں مستقبل کی منصوبہ بندیوں کے پیش نظر برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک نجی اخبار سے ایک مختصر بات چیت میں پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے انکشاف کیا کہ ایران خطے کا پہلا ملک تھا جسے 1957ء میں امریکہ نے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی۔ شمشاد احمد خان، جنہوں نے مختلف ادوار میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سیکرٹری جنرل اور تہران میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، انہوں نے یاد دلایا کہ واشنگٹن ایران کی جوہری صلاحیتوں اور اثاثوں سے بخوبی واقف ہے۔ وہ اسرائیل کو ایران کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
شمشاد احمد خان نے یاد دلایا کہ امریکہ سمیت تمام P-5 اراکین نے 2015ء میں ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کی ضمانتوں کے عوض ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کو یقینی بنایا گیا تھا۔ اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ یہ معاہدہ کس طرح سبوتاژ ہوا۔ ان کی توجہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی جانب مبذول کروائی گئی، جو اسرائیل کے ایران پر حملے کے فوری خطرے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو چند دنوں یا ہفتوں میں معلوم ہو جائے گا کہ خطے میں جنگ نہیں ہوگی۔ اسی دوران فرانس 24 ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ چینل تہران سے رپورٹ کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر حملہ کرنے ایران کی ایران پر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔