احمد آباد (نوائے وقت رپورٹ) بھارتی ریاست گجرات کے احمد آباد ائرپورٹ کے قریب ائر انڈیا کا مسافر طیارہ آبادی میں ڈاکٹرز کے ہاسٹل پر گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں عملے کے 10 ارکان، 2 پائلٹس، 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، 7 پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھا۔ مرنے والوں میں 11 بچے، گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی، ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔ طیارہ لندن روانہ ہو رہا تھا کہ ٹیک آف کے دوران حادثہ کا شکار ہو گیا۔ ایک مسافر زندہ بچ گیا جس کی شناخت رمیش وسواش کے نام سے ہوئی۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق مسافروں اور زمین پر موجود افراد سمیت 315 افراد ہلاک ہوئے۔ ڈاکٹرز کے ہاسٹل میں موجود 75 افراد بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔ طیارہ حادثے کے بعد جائے حادثہ کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں دھواں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ حادثہ بھارتی وقت کے مطابق دن کے  1 سے 2 بجے کے درمیان پیش آیا اور حادثے کے بعد احمد آباد ایئر پورٹ پر فلائٹ آپریشن بند کردیا گیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ فلائٹ ریڈار کے مطابق اڑان بھرنے کے بعد ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ بھارتی ڈی جی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ طیارہ گرنے سے قبل ایک بج کر 39 منٹ پرکیپٹن نے مے ڈے کی کال دی۔ حادثے کا شکار بوئنگ 787 طیارہ 11 سال پرانا تھا۔ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ وزارت شہری ہوا بازی کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ تمام ضروری امداد فوری طور پر فراہم کی جائے اور صورتحال سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں تباہ ہونے والے بھارتی طیارے میں ایک مسافر معجزانہ طور پر بچ گیا۔ اس مسافر نے طیارے کے ایمرجنسی دروازے سے باہر چھلانگ لگائی تھی۔ بچنے والے مسافر رمیش وسواش نے میڈیا کو بتایا کہ سب کچھ بہت اچانک ہوا۔ اڑان کے 30 سیکنڈ بعد طیارہ گر گیا۔ میرا بھائی بھی ساتھ سفر کر رہا تھا۔ چاروں طرف لاشیں تھیں۔ میں اٹھا اور بھاگنا شروع کر دیا۔ کسی نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔ 
اسلام آباد ؍ ماسکو؍ پیرس؍ سڈنی (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ)  صدر مسلم لیگ (ن)  میاں نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت میں طیارہ حادثے اور اس میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نواز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں بھارت میں طیارہ حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ المناک سانحہ سرحدوں سے بالاتر ہے اور ہمیں مشترکہ انسانیت کی یاد دلاتا ہے۔ وزیراعظم مودی اور بھارت کے عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ وزیراعظم  شہباز شریف نے بھی طیارہ حادثہ میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا یہ حادثہ بہت افسوسناک ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ  اس افسوسناک واقعہ کے بارے میں سن کر دکھ ہوا، میں بھارت کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس المناک حادثے پر ہمیں گہرا دکھ ہے۔  علاوہ ازیں  روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ میری ہمدردیاں طیارہ کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔ حادثے میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ احمد آباد میں طیارہ گرنے کے افسوسناک حادثے کا عالم ہوا۔ دکھ کے ان لمحات میں میری دلی ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔ آسٹویلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ احمد آباد میں مسافر طیارہ گرنے کی خبر بہت افسوسناک ہے۔ سانحے پر ہماری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔ آئر لینڈ کے وزیراعظم  مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے پر ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بھارتی عوام کے ساتھ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: طیارہ حادثے کے ساتھ ہیں نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری