ایران پر حملے سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو کیا پیغام دیا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے اتحادی اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرے، کیونکہ تہران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے بشرطیکہ ایران کچھ لچک دکھائے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک مناسب معاہدے کے کافی قریب ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تصادم کا خدشہ ہے۔ یہی خدشات امریکی سفارتی عملے کی مشرق وسطیٰ سے واپسی کے فیصلے کا باعث بنے ہیں۔
جب اُن سے نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ وہ (اسرائیل) حملہ کرے، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس سے معاہدہ سبوتاژ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے فوری طور پر یہ بھی کہا کہ ممکن ہے اس سے معاہدے کو فائدہ بھی ہو، لیکن نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت کئی اہم شخصیات ہلاک
صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایران کے ساتھ چھٹے دور کی بات چیت کرنے والے ہیں۔ ایران نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ کرے گا، جو مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر خود کو امن پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع سے بچنا چاہتے ہیں، اور ترجیح ایک باوقار سفارتی معاہدے کو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس تنازع سے بچنا پسند کروں گا۔ ایران کو تھوڑا سخت رویہ اپنانا ہوگا یعنی ہمیں کچھ ایسی چیزیں دینا ہوں گی جو وہ اس وقت دینے کو تیار نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ حملہ فوری ہے، لیکن یہ کچھ ایسا ہے جو ممکنہ طور پر ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیو وٹکوف ایران حملہ صدر ٹرمپ نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیو وٹکوف ایران حملہ نیتن یاہو ایران پر کے ساتھ سکتا ہے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔