اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، اس جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور جارح ملک کو اس کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے پاکستان، ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان اشتعال انگیز کارروائیوں کی غیر مبہم انداز میں مذمت کرتا ہے، جو پورے خطے بلکہ اس سے آگے بھی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور جن کے انتہائی سنجیدہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، اس جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور جارح ملک کو اس کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی اقوام متحدہ دفتر خارجہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔