’ٹائٹن آبدوز‘ کے دلخراش سانحے پر بنی دستاویزی فلم ریلیز، سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بحرِ اوقیانوس کی تاریک گہرائیوں میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کی حقیقی کہانی پر مبنی نیٹ فلکس کی نئی دستاویزی فلم ’ٹائٹن: دی اوشین گیٹ ڈیزاسٹر‘ ریلیز کر دی گئی ہے۔
نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری "Titan: The OceanGate Disaster” ٹائٹن آبدوز سانحے کی وجوہات پر روشنی ڈالتی ہے جو جون 2023 میں پیش آیا تھا۔
یہ آبدوز جو مشہور ٹائٹینک کے ملبے تک جانے والے ایک تجارتی مشن پر روانہ ہوئی تھی، تقریباً 90 منٹ بعد سمندر کی 3,300 میٹر گہرائی میں تباہ ہوگئی تھی۔ حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں معروف برطانوی مہم جو حامش ہارڈنگ، پاکستانی نژاد بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کا بیٹا، فرانسیسی غوطہ خور پال ہنری اور آبدوز کے مالک اسٹاکٹن رش شامل تھے۔
A post common by Netflix India (@netflix_in)
دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آبدوز کے کاربن فائبر ڈھانچے میں شروع سے ہی سنگین تکنیکی خامیاں موجود تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈیزائن شروع سے ہی خطرناک تھا اور سمندر کی تہہ میں ہر غوطہ اس کے لیے ایک نیا خطرہ تھا۔
ڈاکیومنٹری میں اوشین گیٹ کمپنی کی ویڈیوز، ڈیٹا اور سابق ملازمین کی گواہیاں شامل کی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کے بانی نے حفاظتی خدشات کو نظرانداز کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر عام لوگ ان فیصلوں سے واقف ہوتے تو آبدوز میں سوار ہونے سے گریز کرتے اور اس دلخراش حادثے کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔