واشنگٹن(نیوز ڈیسک)دفاعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا کے ’گولڈن ڈوم‘ منصوبے سے دنیا میں نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے اور ممالک خلا کو بھی جنگی میدان بنا سکتے ہیں۔

گزشتہ مہینے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور بڑا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا نام ’گولڈن ڈوم‘ رکھا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد امریکا کو دشمن ممالک کے میزائل حملوں سے بچانا ہے۔

یہ نظام زمین، سمندر، خلا اور سیٹلائٹس کے ذریعے کام کرے گا تاکہ کسی بھی میزائل کو امریکا کی حدود میں پہنچنے سے پہلے تباہ کیا جاسکے۔

امریکا کے اس منصوبے پر ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور مکمل ہونے تک اس کی لاگت 160 ارب سے 500 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ نظام 2029 تک مکمل طور پر تیار ہو جائے۔

اس منصوبے کی قیادت جنرل مائیکل گیٹلین کریں گے، جو امریکا کی اسپیس فورس کے اعلیٰ افسر ہیں۔ کئی بڑی امریکی کمپنیاں جیسے لاک ہیڈ مارٹن، اسپیس ایکس، مائیکروسافٹ اور نارتھروپ گرومین اس منصوبے کا حصہ بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کچھ ماہرین اور مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف بہت مہنگا ہے بلکہ اس سے دنیا میں نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے جس میں ممالک خلا کو بھی جنگی میدان بنا سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو یہ دفاعی نظام مفت دینے کی پیشکش بھی کی، لیکن شرط رکھی کہ کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن جائے، کینیڈا نے یہ تجویز مسترد کردی ہے۔

یہ منصوبہ امریکا کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا قدم سمجھا جارہا ہے، مگر اس پر مالی، تکنیکی اور عالمی سطح پر کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ملکی بحران کا حل حکومت کی رخصتی میں ہے، محمود خان اچکزئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امریکا کی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان