لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13جون 2025) ہفتہ وار مہنگائی کی شرح منفی 1 اعشاریہ 41 فیصد ہونے کے باوجود بیشتر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، رواں ہفتے کے دوران مرغی، دالوں، کوکنگ آئل، آٹا، ایل پی جی سمیت 15 اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کی ہے جس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی، تاہم ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران بیشتر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 11 فیصد کی معمولی کمی ہو گئی۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی بڑھنے کی شرح منفی 1 اعشاریہ 41 فیصد ریکارڈ کی گئی، ایک ہفتے میں 15 اشیا سستی 9 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں ٹماٹر فی کلو 12 روپے 33 پیسے سستے ہوئے، ایک ہفتے کے دوران آلو فی کلو 6 روپے 46 پیسے سستے ہوئے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں پیاز کی فی کلو قیمت میں 1 روپے 52 پیسے کی کمی ہوئی، انڈے فی درجن 2 روپے 17 پیسے سستے ہوئے، کیلے، خشک دودھ، گڑ، چینی اور مٹن بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران برائلر مرغی فی کلو 42 روپے 9 پیسے مہنگی ہوئی، لہسن کی فی کلو قیمت 19 روپے 68 پیسے بڑھ گئی۔ ایک ہفتے کے دوران دال مونگ فی کلو 5 روپے 25 پیسے مہنگی ہوئی، دال چنا، کوکنگ آئل، گندم کا آٹا، ایل پی جی بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق چاول، بریڈ، بیف، نمک سمیت 27 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔                                      .

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح ہفتے کے دوران ایک ہفتے فی کلو

پڑھیں:

ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب روپے کا اضافہ، مجموعی قرض 84 ہزار ارب سے تجاوز کر گیا

وزارتِ خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے مجموعی حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک کا مجموعی قرضہ 84 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026ء سے 2028ء کے دوران قرضوں کا تناسب 70.8 فیصد سے کم ہو کر 60.8 فیصد تک آنے کا تخمینہ ہے، اور درمیانی مدت میں قرضوں کی پائیداری برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025ء تک پاکستان پر واجب الادا قرض 84 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ 2028ء تک فنانسنگ کی ضروریات 18.1 فیصد کی بلند سطح پر رہیں گی، تاہم گزشتہ مالی سال میں مارک اپ ادائیگیوں میں 888 ارب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں قرضوں کے حوالے سے درپیش اہم خطرات اور چیلنجز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق معاشی سست روی قرضوں کی پائیداری کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، جبکہ ایکسچینج ریٹ، سود کی شرح میں اتار چڑھاؤ، بیرونی جھٹکے اور موسمیاتی تبدیلیاں قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے مجموعی قرضوں میں 67.7 فیصد حصہ ملکی قرضوں کا ہے، جبکہ 32.3 فیصد بیرونی قرضے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 80 فیصد قرضے فلوٹنگ ریٹ پر حاصل کیے گئے، جس سے شرحِ سود میں اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔ مختصر مدت کے قرضوں کا حصہ 24 فیصد ہے، جس سے ری فنانسنگ کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بیرونی قرضے رعایتی نوعیت کے ہیں جو دوطرفہ یا کثیرالطرفہ اداروں سے حاصل کیے گئے، تاہم فلوٹنگ بیرونی قرضوں کا حصہ 41 فیصد ہونے کی وجہ سے درمیانی سطح کا خطرہ برقرار ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا یا زرمبادلہ ذخائر کم ہوئے تو مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مالیاتی نظم و ضبط، معاشی استحکام، برآمدات کے فروغ اور آئی ٹی سیکٹر کی ترقی سے قرضوں کے دباؤ میں کمی لانے کی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں وفاقی مالی خسارہ 6.8 فیصد ہدف کے مقابلے میں کم ہو کر 6.2 فیصد رہا، جبکہ وفاقی پرائمری بیلنس 1.6 فیصد سرپلس میں رہا — جو کہ مالی نظم میں بہتری کی علامت ہے۔
اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کے آثار بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال معاشی شرحِ نمو 2.6 فیصد سے بڑھ کر 3.0 فیصد تک پہنچ گئی، اور اگلے تین سال میں یہ شرح 5.7 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ مہنگائی کی شرح بھی نمایاں طور پر گھٹ کر 23.4 فیصد سے 4.5 فیصد تک آ گئی ہے، اور 2028ء تک 6.5 فیصد پر مستحکم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پالیسی ریٹ میں جون 2024ء سے اب تک 1100 بیسس پوائنٹس کی کمی، زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام، اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی جیسے عوامل نے مالیاتی فریم ورک کو سہارا دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، اگر یہی رجحان برقرار رہا تو درمیانی مدت میں کم از کم 1.0 فیصد پرائمری سرپلس برقرار رکھنے کی توقع ہے۔
مجموعی طور پر، رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، تاہم مالی نظم، شرحِ سود میں نرمی، اور برآمدات کے فروغ سے پاکستان درمیانی مدت میں معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، امارات میں نمایاں کمی ریکارڈ
  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتہ کیسا رہا؟
  • پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوگیا، حکومت نے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا
  • ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب کا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا
  • آئندہ 15 روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
  • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
  • ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب روپے کا اضافہ، مجموعی قرض 84 ہزار ارب سے تجاوز کر گیا
  • پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں 60 فیصد اضافہ