Express News:
2026-06-03@04:27:28 GMT

اسرائیل کا ایران پرحملہ، عالمی امن پرکاری وار

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

اسرائیل نے 200 لڑاکا طیاروں کے ساتھ ایران کی 100 سے زیادہ تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس میں پاسداران انقلاب کے سربراہ، آرمی چیف سمیت متعدد اہم کمانڈرز اور 6 جوہری سائنسدان شہید ہوئے ہیں، جس کی ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا، تو امریکا اسرائیل کا مکمل دفاع کرے گا۔

 بلاشبہ اسرائیل کے ایران پر اچانک بلاجواز حملے کے پیچھے امریکا کی آشیر آباد شامل ہے، جب کہ ایران کو کوئی بھی جوابی اقدام اٹھانے سے پہلے کئی پہلو مدِ نظر رکھنا ہوں گے۔ اس کی دفاعی صلاحیت کی اپنی محدودات ہیں پھر پابندیوں کے باعث بحرانوں میں گھری معیشت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب تو علاقائی اور عالمی امن کے چیمپیئن بننا چاہتے ہیں اور دوسری جانب اسرائیلی بربریت کی سرپرستی کرکے علاقائی اور عالمی امن کو خود تاراج کر رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیل کی اس تازہ کارروائی نے خطے میں ہمہ گیر جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا کی پیشگی منظوری اور اعانت سے ایران پر اسرائیلی حملے نے تیسری اور سب سے خطرناک عالمی جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب، ملائیشیا اور بعض دوسرے ممالک نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں ایران کی علاقائی خود مختاری، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اسرائیل کو عالمی امن خطرے میں ڈالنے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا جس طرح دہشت گرد اسرائیل کو اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کر کے اسے شہہ دے رہا ہے، اس سے یہ پوری طرح واضح ہورہا ہے کہ امریکا عالمی امن کے خلاف ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل دونوں کی حالت کٹھ پتلیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور مسلسل قراردادوں کے منظور ہونے کے باوجود اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہ کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مسلم ممالک اگر ہمت کرسکتے ہیں تو خود ہی ہتھیار اٹھا کر اسرائیل کو سبق سکھا دیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران کھوکھلے بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہے ہیں اور ان کی اسی بے عملی کی وجہ سے صورتحال اس حد تک بگاڑ کا شکار ہوگئی ہے کہ اب یہ جنگ غزہ سے نکل کر پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔

 ایک جانب تو امریکا نے ایران پر ایک نئے جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کا ڈول ڈال رکھا تھا جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کی طرف سے بھیجی گئی نئی جوہری معاہدے کی تجویز ’مبہم اور سوالات‘ پر مشتمل ہے اور اس تجویز کے کئی نکات واضح نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی جاری رکھنا ہماری سرخ لکیر ہے اور ان کا ملک آیندہ چند دنوں میں امریکی تجویز کا جواب دے گا جو کہ ایران کے اصولی موقف اور ایرانی عوام کے مفادات پر مبنی ہو گا۔‘‘

دراصل یورینیم کی افزودگی ان مذاکرات میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک کلیدی اختلافی نکتہ بنی ہوئی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اسے پرامن جوہری توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران کو ممکنہ معاہدے کی صورت میں یورینیم کی کوئی بھی افزودگی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

IAEA کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے 60 فیصد تک خالص یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے، جو کہ تقریباً 90 فیصد کی سطح کے قریب ہے، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ مغربی ممالک، بشمول امریکا، طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں، جب کہ ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

 دوسری جانب کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا۔ ٹرمپ کے دورہ پر سعودیہ اور امریکا میں 142ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہوئے۔ اس دورہ کے دوران ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر ایرانی قیادت نے زیتون کی شاخ اٹھانے کے بجائے جوہری بندش کی ڈیل سے انکار کیا تو نہ صرف یہ کہ مزید پابندیاں لگیں گی بلکہ تہران کی آئل برآمدات زیرو کردیں گے اور یہ ایشو جنگ تک جا سکتا ہے۔ اور پھر یہی بات ٹرمپ کی سچ ثابت ہوئی ہے کہ انھوں نے امریکا کو پس منظر میں رکھتے ہوئے اسرائیل کو آگے کر کے ایران پر حملے کی شہہ دی ہے۔

 حالانکہ ٹرمپ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ میں جنگوں کو روکنا چاہتا ہوں، روس اور یوکرین کی جنگ روکنے کے لیے کوشاں ہوں، لیکن عملی طور پر وہ صرف اتنا کرسکے کہ یوکرین کے صدر کو امریکا بلا کر ڈانٹ پلا دی، جب کہ روس کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکام رہے۔

اسی طرح ان کا سعودی عرب پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا فتنہ پروری اور مسلم دنیا کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے مترادف ہے، نجانے کیوں امریکی صدر کی نظر ابھی تک غزہ کی طرف نہیں اٹھ رہی جہاں اسرائیلی بمباری اور خوراک کی بندش کے باعث ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، بمباری بھوک اور بیماریاں تیزی سے انسانوں کی زندگیاں چھین رہی ہیں، اس کی براہ راست ذمے داری اسرائیل اور امریکا پر عائد ہوتی ہے، ایک طرف ٹرمپ کہتے ہیں ’’مجھے جنگیں پسند نہیں، دنیا میں امن کی خواہش رکھتا ہوں‘‘ دوسری طرف اسلحہ فروخت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں جو تشویشناک عمل ہے ایک طرف امن کی باتیں اور دوسری طرف دورے کے دوران دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ایران نے ان کی یہ پیشکش مسترد کی تو پھر وہ اس پر دباؤ میں اضافہ کر دیں گے اور تہران کی تیل کی برآمدات زیرو کر دیں گے، امریکا امن کے قیام کے لیے فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے۔

 امریکا اپنے دوستوں اور شراکت داروں کا تحفظ جاری رکھے گا جب کہ ٹرمپ کو صرف یوکرین میں مظالم نظر آ رہے ہیں کشمیر اور غزہ کے معاملے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس سے امریکا کی دروغ گوئی عیاں ہے۔ دنیا بھر میں اسرائیل اور فلسطین کے نام سے دو ریاستی منصوبے کی حمایت بڑھ رہی ہے مگر اسرائیل زبردستی فلسطین کے زرعی رقبے کو مسلسل غصب کر رہا ہے وہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے یہودیوں کو آباد کر رہا ہے۔ غزہ کے نیم خود مختار علاقے کو بھی اس نے تباہ و برباد کر کے ایک ویران کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔

 ہزاروں شہید ہوئے، ہزاروں معذور ہوئے، غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء دستیاب نہیں نہ ہی ادویات میسر ہیں، اسرائیل نے محاصرہ کرکے تمام راستے بند کردیے ہیں تاکہ فلسطینی وہاں سے نکل جائیں۔ ان حالات میں امن کی کنجی صرف امریکا کے ہاتھ میں ہے۔ اگر امریکا عرب ممالک کے ساتھ واقعی باہمی امن و احترام اور دوستی کا رشتہ قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو پٹہ ڈالنا ہوگا۔

 فلسطینیوں کی ریاست اور خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا، القدس شریف پر فلسطینیوں کا حق تسلیم کرکے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے، عرب ممالک بھی اس سے کم کسی اور بات پر راضی نہیں ہونگے، ٹرمپ اگر واقعی جنگوں کے مخالف ہیں تو سب سے پہلے شروعات غزہ سے کریں کشمیریوں کو ان کا حق دلائیں کیونکہ ایک طرف ظلم کا بازار گرم ہو تو دوسری طرف امن کا دعویٰ نہیں جچتا۔

 اس وقت صورتحال مسلسل کشیدہ ہے اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل اور ایران نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عالمی برادری اس وقت سخت تشویش کا شکار ہے اور کئی ممالک نے فریقین سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کو اس صورتحال کے تدارک کے لیے عملی طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے، ورنہ دنیا میں قیامت سے پہلے قیامت برپا ہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یورینیم کی امریکی صدر اسرائیل کو عالمی امن امریکا کی کہ ایران ایران نے رہے ہیں ہے اور رہا ہے کہ اگر کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار