عالمی سطح پر سیماب کے، جسے پارہ بھی کہا جاتا ہے، اخراج میں کمی کے باوجود آرکٹک خطے کے جانوروں میں اس کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ان کی حیات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔

ایک تازہ سائنسی تحقیق کے مطابق سمندری دھارائیں صدیوں پرانی مرکری آلودگی کو آرکٹک تک پہنچا رہی ہیں، جہاں اس کی مقدار میں کمی ہوتی نہیں دیکھی جارہی بلکہ اس کی زیادتی وائلڈ لائف کو سنجیدہ خطرات سے دوچار کررہی ہے۔

جرنل نیچر کمیونیکیشنزمیں حال ہی میں شائع شدہ یہ تحقیق آحس یونیورسٹی اور کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

تحقیق میں شامل آروس یونیورسٹی کے پروفیسر رونے ڈیٹز کے مطابق، ان کی ٹیم گزشتہ 40 برسوں سے آرکٹک کے جانوروں میں پارے مرکری کی نگرانی کر رہی ہے، اگرچہ 1970 کی دہائی سے دنیا بھر میں پارے کے اخراج میں کمی ہوئی ہے، مگر آرکٹک میں اس کی مقدار کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

پارہ، جو عام طور پر کوئلہ جلانے اور سونے کی کان کنی سے خارج ہوتا ہے، فضا میں ایک سال تک موجود رہ سکتا ہے، مگر جب یہ سمندر میں شامل ہو جائے تو وہاں 300 سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔

تحقیق میں 40 سال کے دوران گرین لینڈ میں 700 سے زائد ماحولیاتی نمونوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں محققین نے ان علاقوں میں پارے کی مقدار میں فرق اور اس کے بہاؤ سے متعلق اہم شواہد اکٹھے کیے۔

مزید پڑھیں:

آحس یونیورسٹی کے سینیئر محقق ینس سوندرگارڈ کے مطابق، پارے کے آئسوٹوپ دستخطوں کو ہم ‘فنگر پرنٹس’ کی طرح استعمال کرتے ہیں، جو اس کے ذرائع اور نقل و حرکت کے راستے ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیماب قطبی ریچھوں اور دانتوں والے وہیل جیسے سمندری جانوروں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے، صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب پارے کی سطح ان جانوروں میں 20 سے 30 گنا زیادہ ہو چکی ہے، جو ان کے لیے شدید صحت کے خطرات کا سبب بن رہی ہے۔

مزید پڑھیں:

پروفیسر رونے ڈیٹز کے مطابق، چین جیسے بڑے ذرائع سے سیماب یعنی پارے کا گرین لینڈ تک سمندری راستے سے پہنچنا 150 سال تک لے سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آرکٹک میں اس کی مقدار میں واضح کمی نظر نہیں آ رہی۔

یہ تحقیق گرین پاتھ نامی منصوبے کا حصہ ہے، جو آرکٹک میں مرکری آلودگی کے اثرات پر مسلسل کام کر رہا ہے، محققین اس آلودگی کے طویل مدتی ماحولیاتی اثرات کو سمجھنے اور اس کے تدارک کے لیے مزید تحقیق جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرکٹک پارہ جنگلی حیات سیماب وائلڈ لائف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رکٹک پارہ جنگلی حیات وائلڈ لائف کی مقدار میں اس کی مقدار کے مطابق رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ