مسلم دنیا اسرائیل کیخلاف متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتِ حال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جیسے ایران کو نشانہ بنایا ہوا ہے مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسلم دنیا کو متحد ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد وہاں جاری جنگ کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
خواجہ آصف کے مطابق ایران سے صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں، اسرائیل نے جس طرح ایران کو ہدف بنایا ہے، اس پر انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسلم دنیا اس ظلم پر متحد نہ ہوئی تو ایک ایک کر کے سب کی باری آئے گی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے تجویز دی کہ او آئی سی کا فوری اجلاس بلایا جائے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ ایک مضبوط اور مشترکہ پیغام دیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتحاد اسرائیل او آئی سی ایران خواجہ آصف قومی اسمبلی مسلم ممالک وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتحاد اسرائیل او ا ئی سی ایران خواجہ ا صف قومی اسمبلی مسلم ممالک وزیر دفاع وزیر دفاع خواجہ مسلم دنیا
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔