تہران کے معروف مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آج صبح ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

بین الاقوامی میڈیا اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایئرپورٹ کے قریب موجود ایئر فورس ہینگر کو دو پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پورے علاقے میں سنہری دھوئیں کے بلند ستون دیکھے گئے۔

دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، جبکہ سیکیورٹی اور ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

ایرانی خبررساں ادارے فارس نیوز کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایران نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل نے تہران سمیت کئی شہروں میں رہائشی اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ اس تازہ واقعے کے تناظر میں مہرآباد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جانا کشیدگی کی ایک نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم مہرآباد جیسے حساس مقام پر حملے کو انتہائی خطرناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایئرپورٹ کی فضائی سرگرمیوں کو جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران