چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ شدید گرمی کے باوجود 95 فیصد لوگوں کے پاس ایئر کنڈیشنر نہیں ہے۔

سینیٹ کمیٹی اجلاس میں سلیم مانڈوی والا، فاروق ایچ نائیک اور شبلی فراز سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی، اس موقع پر راشد لنگڑیال نے بریفنگ دی۔

شوگر ملز کی مانیٹرنگ کی تو انہوں نے پروڈکشن ہی بند کردی، راشد لنگڑیال

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ر( ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ اگلے مالی سال میں ہمیں ٹیکس شارٹ فال کا سامنا نہیں ہوگا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد 60 لاکھ ہے، شدید گرمی کے باوجود 95 فیصد لوگوں کے پاس ایئرکنڈیشنڈ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 18 سال کم عمر اور بزرگوں کی تعداد 13 کروڑ 20 لاکھ ہے، ملکی آبادی کا یہ حصہ لیبر فورس سے باہر ہے، خواتین کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔

اس موقع پر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 250 کمپنیوں کو اینٹی منی لانڈرنگ کے نوٹس آئے ہیں، اے ایم ایل نوٹس وزیر اور چیئرمین کی منظوری کے بغیر نہ دیا جائے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کسی کمپنی کو اے ایم ایل کا نوٹس آجائے دنیا بھر کے ادارے تحقیقات شروع کر دیتے ہیں، اے ایم ایل کے نوٹس پر کمپنی کے بنکنگ چینل بند ہو جاتے ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ بتایا جائے کہ اے ایم ایل کے تحت کتنےکیس بنے اور کتنے لوگوں کو سزا ملی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اے ایم ایل ایف بی ا ر نے کہا کہ

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا