باجوڑ، شہباز شریف کے معاون خصوصی مبارک زیب کے گھر پر راکٹ حملہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی اور رکنِ قومی اسمبلی کے گھر پر راکٹ حملے کے نتیجے میں گھر کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا، حملے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور رکنِ قومی اسمبلی مبارک زیب خان کے گھر پر ایک بار پھر راکٹ حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق راکٹ حملے کے نتیجے میں گھر کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا، حملے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایم این اے مبارک زیب خان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے قبل بھی ان پر حملوں کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ گھر پر حملہ کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، پولیس اور حساس ادارے حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہیں، حملے کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حملے کے گھر پر کے گھر
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔