اس بار ہتھیاروں کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے اور مزاحمت کریں گے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اس بار ہم ہتھیاروں کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے اور مزاحمت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کی ملک گیر تحریک، احتجاج کب، کہاں اور کس طرح ہوگا؟
پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہاکہ اب ہم پر امن نہیں رہے گے، اس سے قبل پرامن تھے تو ہمارے کارکنوں کو شہید کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے اور گولی کا جواب گولی سے دیا جائےگا۔ اس وقت عمران خان کی اہلیہ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ 22 جون کو تمام اضلاع سے پی ٹی آئی کے کارکنان نکلیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے لیے بیرسٹر علی ظفر کو پلان بنا کر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں ’ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے‘، عمران خان نے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ عید کے بعد احتجاج کا اعلان کیا جائےگا، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل علی امین گنڈاپور عمران خان رہائی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل علی امین گنڈاپور عمران خان رہائی وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔