اسرائیل کی انسانیت کش کاروائیوں سے پوری دنیا کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے، سول سوسائٹی ملتان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے رہنمائوں نے کہا کہ اسرائیل ایک فاشسٹ ریاست ہے جو عالمی سطح پر بالعموم اور مسلم ممالک کے لئے بالخصوص نفرت کی علامت بن چکا ہے، اسرائیل کی انسانیت کش کاروائیوں سے پوری دنیا کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے پاکستان سمیت دنیا بھر کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے، یہ تنازعہ جس کی جڑیں کئی دہائیوں کے سیاسی، مذہبی اور علاقائی تنازعات میں ہیں، اب خطرناک موڑ لے چکی ہے اور دونوں فریقین دھمکیوں کے تبادلے کے بعد اب فوجی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جب کہ تنازعہ مشرق وسطی میں مرکوز ہے، اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں جو خطے کے ساتھ مذہبی، جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امن کے پرچم کو بلند کیا جائے تاکہ خطے میں تباہی و بربادی سے محفوظ رہا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین احسان خان سدوذئی، کوارڈینیٹر شاہد محمود انصاری اور سینیِر وائس چیرمین ڈاکٹر فاروق خان لنگاہ ایران کے خلاف اسرائیلی جنگی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک فاشسٹ ریاست ہے جو عالمی سطح پر بالعموم اور مسلم ممالک کے لئے بالخصوص نفرت کی علامت بن چکا ہے۔ اسرائیل کی انسانیت کش کاروائیوں سے پوری دنیا کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ عالمی قوتیں ہوش کے ناخن لیں اور اسرائیل کو لگام ڈالیں بصورت دیگر تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ سماجی رہنماوں نے کہا کہ سال ہا سال سے فلسطین کے مظلوم عام اسرائیلی جارحیت و بربریت کا شکار ہورہے ہیں۔ غزہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے جہاں اسلحہ و میزائل کے ذریعے بربادی کے بعد اب بھوک پیاس سے لوگ شہید ہورہے ہیں جبکہ دوسری جانب اسرائیلی خونخواروں کے منہ کو خون لگ چکا ہے۔ اس کا جلدی تدارک نہ کیا گیا تو کچھ باقی نہیں بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں مقیم پاکستانی تارکین وطن بہت سے پاکستانی ایران، عراق و خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی عدم استحکام ان کی حفاظت اور روزگار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، اور بڑے پیمانے پر تصادم ملازمت کے نقصان، نقل مکانی، یا جبری نقل مکانی کا باعث بن سکتا ہے۔ معاشی طور پر جنگ عالمی تیل کی منڈیوں میں خلل ڈال سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔