شہباز شریف اور ترک صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، ایران پر حملہ علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
پاکستان اور ترکیہ نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں ایران کا اسرائیل کے خلاف ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ جاری، میزائل حملوں میں 4 اسرائیلی ہلاک
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے صریح منافی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کہاکہ یہ جارحیت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام پر اسرائیل کے مسلسل مظالم کی بھی شدید مذمت کی اور کہاکہ اسرائیل کو مکمل آزادی کے ساتھ ظلم و بربریت جاری رکھنے دیا جا رہا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بھرپور اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، چاہے وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ہو یا او آئی سی جیسے اہم فورمز ہوں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار آئندہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جو استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔
انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو اسلامک کوآپریشن یوتھ فورم (ICYF) کی جانب سے اعلیٰ اعزاز سے نوازے جانے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر کو ٹیلیفون، پاکستان کی طرف سے اظہار یکجہتی
دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو موجودہ صورتحال میں اپنی سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ امن کے لیے باہمی روابط اور قریبی رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ترکیہ صدر ٹیلیفونک رابطہ رجب طیب اردوان شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترکیہ صدر ٹیلیفونک رابطہ رجب طیب اردوان شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز شہباز شریف کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔