وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ،اسرائیلی حملوں کی مذمت ،بھرپور حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آج شام اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلاجواز جارحیت پر، حکومت ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے.
حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر پیزشکیان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اسرائیل کی اشتعال انگیزی اور مہم جوئی کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے بہادر فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ نسل کشی کی بلا روک ٹوک کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ رویے اور اس کے غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے فوری اور قابل اعتبار اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس تناظر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر پیزشکیان نے اس مشکل وقت بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے ساتھ پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اسرائیل کے ساتھ بحران پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔ دونوں رہنماں نے قریبی رابطے میں رہنے پراتفاق کیا۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔