جب تک حکمران طبقہ اپنے مفادات کی نفی نہیں کرے گا عام عوام کو ریلیف نہیں ملے گا‘مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 جون2025ء)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب تک حکمران طبقہ اپنے مفادات کی نفی نہیں کرے گا عام عوام کو ریلیف نہیں ملے گا‘جب کاروبار کرنے والے کا کاروبار محفوظ نہیں ہوگا تو اپنا پیسہ بیرون ملک لے جائے گا ‘ قوم پرست،وطن پرست اور پاکستان پرست لوگوں کو سامنے آنا ہوگا ۔
کراچی میں قیصر شیخ کی رہائش گاہ پر کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی زمانے میں فری ٹیکس بجٹ بہت قابل تحسین ہوا کرتا تھا ‘آج ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر بھی بجٹ کو قابل تحسین کہا جارہا ہے ‘افراط زر اور ملک کی مجموعی پیداوار تیس سال پہلے کیا تھی اور آج کیا ہے ‘چین، بھارت، بنگلہ دیش اور ایران کی جی ڈی پی اوپر جبکہ ہم نیچے جارہے ہیں ۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ قومی اور ملی زندگی میں اسلام کی دو ترجیحات ہیں امن اور معیشت‘ ملکی اقتصاد کے حوالے سے کاروباری برادری کی بات ہی سند رکھتی ہے ‘ کسی زمانے میں فری ٹیکس بجٹ بہت قابل تحسین ہوا کرتا تھا ‘آج ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر بھی بجٹ کو قابل تحسین کہا جارہا ہے ‘افراط زر اور ملک کی مجموعی پیداوار تیس سال پہلے کیا تھی اور آج کیا ہے ‘چین، بھارت، بنگلہ دیش اور ایران کی جی ڈی پی اوپر جبکہ ہم نیچے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ڈی پی کو منفی بھی دیکھا ہے۔جب تک حکمران طبقہ اپنے مفادات کی نفی نہیں کرے گا عام عوام کو ریلیف نہیں ملے گا ۔ کاروباری طبقہ کی جانب سے عام آدمی کا احتساب بعد میں ہوتا ہے اقتصاد پہلے ہوتا ہے ۔ہم اقتصاد چلنے نہیں دیتے اور احتساب پہلے شروع کر دیتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب کے قانون کے مطابق پاکستان کا ہر شہری پیدائشی مجرم ہے ‘جب کاروبار کرنے والے کا کاروبار محفوظ نہیں ہوگا تو اپنا پیسہ بیرون ملک لے جائے گا ‘ ہم معاشی طور پر آج بھی غلام ہیں ‘نوآبادیاتی نظام کہتے ہیں ختم ہوگیا لیکن اس کی جگہ بین الاقوامی اداروں نے لے لی ہے ۔امیر جے یو آئی نے کہا کہ ہماری معیشت، اقتصاد پر عالمی اداروں کا کنٹرول ہے ‘میں نے پارلیمنٹ میں خود دیکھا ہے کہ یہ قانون سازی ہم ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر کررہے ہیں ‘سیاسی، آئینی اور قانونی سطح پر بھی اقوام متحدہ جیسے اداروں کے قانون لاگو ہوتے ہیں ‘دفاعی لحاظ سے بین الاقوامی معاہدات ہیں ‘فوج، اسلحہ میزائل ہمارے لیکن ان پر کنٹرول بین الاقوامی معاہدوں کا ہے ‘کیا آزادی کی جنگ مکمل ہوچکی اور واقعی ہم آزاد ہیں انہوں نے کہا کہ قوم پرست،وطن پرست اور پاکستان پرست لوگوں کو سامنے آنا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مذہب کا نام استعمال کرنا آسان لیکن مسائل کے حل کے لیے صرف مذہب کا نعرہ کافی نہیں ‘دائرہ اختیار سے اور دائرہ اقتدار آتا ہے ‘جب سے پاکستان بنا ہے فوجی، بیوروکریسی کے ساتھ صنعتکار اور جاگیر ہی کھلاڑی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔