UrduPoint:
2026-06-03@08:43:05 GMT
جب تک حکمران طبقہ اپنے مفادات کی نفی نہیں کرے گا عام عوام کو ریلیف نہیں ملے گا‘مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 جون2025ء)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب تک حکمران طبقہ اپنے مفادات کی نفی نہیں کرے گا عام عوام کو ریلیف نہیں ملے گا‘جب کاروبار کرنے والے کا کاروبار محفوظ نہیں ہوگا تو اپنا پیسہ بیرون ملک لے جائے گا ‘ قوم پرست،وطن پرست اور پاکستان پرست لوگوں کو سامنے آنا ہوگا ۔
کراچی میں قیصر شیخ کی رہائش گاہ پر کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی زمانے میں فری ٹیکس بجٹ بہت قابل تحسین ہوا کرتا تھا ‘آج ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر بھی بجٹ کو قابل تحسین کہا جارہا ہے ‘افراط زر اور ملک کی مجموعی پیداوار تیس سال پہلے کیا تھی اور آج کیا ہے ‘چین، بھارت، بنگلہ دیش اور ایران کی جی ڈی پی اوپر جبکہ ہم نیچے جارہے ہیں ۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ قومی اور ملی زندگی میں اسلام کی دو ترجیحات ہیں امن اور معیشت‘ ملکی اقتصاد کے حوالے سے کاروباری برادری کی بات ہی سند رکھتی ہے ‘ کسی زمانے میں فری ٹیکس بجٹ بہت قابل تحسین ہوا کرتا تھا ‘آج ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر بھی بجٹ کو قابل تحسین کہا جارہا ہے ‘افراط زر اور ملک کی مجموعی پیداوار تیس سال پہلے کیا تھی اور آج کیا ہے ‘چین، بھارت، بنگلہ دیش اور ایران کی جی ڈی پی اوپر جبکہ ہم نیچے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ڈی پی کو منفی بھی دیکھا ہے۔جب تک حکمران طبقہ اپنے مفادات کی نفی نہیں کرے گا عام عوام کو ریلیف نہیں ملے گا ۔ کاروباری طبقہ کی جانب سے عام آدمی کا احتساب بعد میں ہوتا ہے اقتصاد پہلے ہوتا ہے ۔ہم اقتصاد چلنے نہیں دیتے اور احتساب پہلے شروع کر دیتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب کے قانون کے مطابق پاکستان کا ہر شہری پیدائشی مجرم ہے ‘جب کاروبار کرنے والے کا کاروبار محفوظ نہیں ہوگا تو اپنا پیسہ بیرون ملک لے جائے گا ‘ ہم معاشی طور پر آج بھی غلام ہیں ‘نوآبادیاتی نظام کہتے ہیں ختم ہوگیا لیکن اس کی جگہ بین الاقوامی اداروں نے لے لی ہے ۔امیر جے یو آئی نے کہا کہ ہماری معیشت، اقتصاد پر عالمی اداروں کا کنٹرول ہے ‘میں نے پارلیمنٹ میں خود دیکھا ہے کہ یہ قانون سازی ہم ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر کررہے ہیں ‘سیاسی، آئینی اور قانونی سطح پر بھی اقوام متحدہ جیسے اداروں کے قانون لاگو ہوتے ہیں ‘دفاعی لحاظ سے بین الاقوامی معاہدات ہیں ‘فوج، اسلحہ میزائل ہمارے لیکن ان پر کنٹرول بین الاقوامی معاہدوں کا ہے ‘کیا آزادی کی جنگ مکمل ہوچکی اور واقعی ہم آزاد ہیں انہوں نے کہا کہ قوم پرست،وطن پرست اور پاکستان پرست لوگوں کو سامنے آنا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مذہب کا نام استعمال کرنا آسان لیکن مسائل کے حل کے لیے صرف مذہب کا نعرہ کافی نہیں ‘دائرہ اختیار سے اور دائرہ اقتدار آتا ہے ‘جب سے پاکستان بنا ہے فوجی، بیوروکریسی کے ساتھ صنعتکار اور جاگیر ہی کھلاڑی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔