Islam Times:
2026-07-24@09:26:06 GMT

قطر کا ایران کی حمایت کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

قطر کا ایران کی حمایت کا اعلان

شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا کہنا تھا کہ قطر اس بزدلانہ جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اس کا جواب دے۔ اسلام ٹائمز۔ قطر نے اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی حمایت کا اعلان کردیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ہفتہ کی شام اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کیا۔ صدر پزشکیان نے امیر قطر سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے دن سے ہی میں نے ہمسایہ اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش کی تاکہ خطے میں ترقی اور استحکام لایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے ہی صہیونی حکومت نے اس عمل کو سبوتاژ کرنے اور خطے کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایران پر حملے میں اسرائیلی حکومت کی جارحیت کی امریکی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر اسرائیلی حکومت کی جنگی پالیسیوں کے ذریعے اپنے ناجائز مطالبات نہیں تھوپ سکتا۔ ایرانی صدر نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف اسلامی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کی سالمیت اور عوام کے حقوق کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا کہنا تھا کہ قطر اس بزدلانہ جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اس کا جواب دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور تنازعات کے حل اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے ایران کے مذاکرات کے نظریے کی حمایت کرتا ہے، صہیونی حکومت کی جارحیت کو روکنے کے لیے تعاون کے استحکام اور دباؤ کے حق میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی حمایت کہا کہ

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان