امریکی صحافی اور مشہور ٹی وی اینکر ٹکر کارلسن نے ایران پر اسرائیلی حملے کی حمایت کرنے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کے حملوں میں شریک ہے اور یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا، اسرائیلی حملوں میں برابر کا شریک، اسے حساب دینا ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ

کارلسن نے اپنی تازہ نیوز لیٹر میں لکھا کہ اسرائیل نے جمعے کی صبح ایران کے جوہری اور فوجی مراکز پر بمباری کی، جس کے بعد ایران نے اسرائیل کے شہروں پر ڈرونز اور میزائلوں سے جوابی حملہ کیا۔

ایک مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے برسوں سے اسرائیل کو اسلحہ اور امداد دی ہے، اور اب ٹرمپ اس پر فخر بھی کر رہے ہیں۔ اس لیے امریکا ان حملوں کا شریک ہے، چاہے اس نے خود بمباری نہ کی ہو۔

کارلسن کے مطابق جو لوگ ’پہلے امریکا‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، وہ اب یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔

اصل لڑائی جنگ چاہنے والوں اور امن پسندوں کے درمیان ہے

 انہوں نے کہا کہ اصل لڑائی اسرائیل اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ جنگ چاہنے والوں اور امن پسندوں کے درمیان ہے۔

انہوں نے ان ’جنگ پسندوں‘ میں ٹی وی میزبان شان ہینیٹی، مارک لیون، میڈیا کے بڑے نام روپرٹ مرڈوک، اور کچھ بڑے ری پبلکن ڈونرز کو شامل کیا۔

اگرچہ امریکی حکومت نے ان حملوں میں شریک ہونے کی تردید کی ہے، لیکن ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ ان حملوں کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے اور انہوں نے اسرائیل کے اقدام کو ’شاندار‘ قرار دیا۔

یاد رہے کہ ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے بھی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے اتحادی ان حملوں کے نتائج کے مکمل ذمہ دار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیلی حملے ایران ٹکر کارلسن مشرق وسطیٰ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی حملے ایران ٹکر کارلسن اسرائیل کے انہوں نے ان حملوں

پڑھیں:

پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان