data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہے کہ اگر ایران نے امریکا پر کسی بھی شکل میں حملہ کیا تو اسے امریکی فوج کی ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا “جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو، امریکا کا اسرائیل کے حالیہ حملوں سے کوئی تعلق نہیں لیکن امریکہ اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی صدر نے کہاکہ ہم پر اگر کسی بھی شکل یا طریقے سے حملہ کیا گیا تو امریکہ کی مکمل طاقت تم پر ٹوٹ پڑے گی،ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان آسانی سے معاہدہ کروا سکتے ہیں اور اس خونریز تصادم کو ختم کر سکتے ہیں۔

خیال رہےکہ  ایران اور اسرائیل کے دارالحکومتوں میں رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جبکہ اسرائیل نے ایران کے وزارتِ دفاع اور “جوہری ہتھیاروں کے منصوبے” سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ  اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے ان مذاکرات کو منسوخ کر دیا ہے، عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی کہ ایران نے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ “گولہ باری کے دوران بات چیت نہیں کر سکتا۔

یادر ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اتوار کو علی الصبح کیے گئے فضائی حملوں میں تہران میں واقع ایران کے دفاعی اور جوہری تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے، اسرائیل کے دعوے کے مطابق اب تک کے حملوں میں ایران کے 9 سینئر سائنس دان، متعدد جنرلز اور ایٹمی منصوبے سے جڑے ماہرین مارے جا چکے ہیں جبکہ  ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل پر کئی بیلسٹک میزائل داغے، جن سے اسرائیلی شہروں میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پہزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی “جارحیت کا بھرپور اور زیادہ شدید ردعمل” دیا جائے گا۔ انہوں نے امریکہ پر بھی دوغلی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن اسرائیل کی کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے ایران نے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل