بھارت اور اسرائیل کی کوششوں کے باوجود پاکستان کا فیٹف گرے لسٹ سے بچنا بڑی کامیابی ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کی تمام کوششوں کے باوجود پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ میں شامل نہ کرنا ایک بڑی سفارتی فتح ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کرانے کی بھارتی کوششیں ناکام
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہاکہ فیٹف کے ذیلی ادارے ’انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ‘ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ اجلاس میں چین نے پاکستان کے حق میں واضح اور مضبوط مؤقف اپنایا، جس کی ترکیہ نے بھی مکمل تائید کی، جبکہ جاپان جو ایشیا پیسیفک گروپ کا شریک چیئرمین ہے، اس نے بھی پاکستان کی مکمل حمایت کی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فیٹف کی تمام شرائط پوری کردی ہیں، اس لیے اب کسی بھی لسٹ میں اس کی شمولیت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں بھارت میں پرتشدد انتہا پسند تنظیموں نے منظم نیٹ ورکس کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے، فیٹف
خواجہ آصف نے دعویٰ کیاکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرانے کی کوششیں ناکام ہو گئیں، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی مؤثر سفارت کاری اور بین الاقوامی حمایت نے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل بھارت خواجہ آصف سازشیں سفارتی فتح فیٹف گرے لسٹ وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بھارت خواجہ ا صف سفارتی فتح فیٹف گرے لسٹ وزیر دفاع وی نیوز پاکستان کو خواجہ آصف
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔