بِٹ کوائن اثاثوں کے سب سے بڑے مالک پاکستان کے معترف، مدد کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
دنیا میں بِٹ کوائن اثاثوں کے سب سے بڑے مالک مائیکل سیلر نے بِٹ کوائن ریزرو کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
کرپٹو اور بلاک چین کے وزیر مملکت بلال بن ثاقب کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور انہوں نے سٹریٹیجی (سابقہ مائیکرو سٹریٹیجی) کے ایگزیکٹو چیئرمین مائیکل سیلر کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ویڈیو میٹنگ کی صدارت کی۔
مائیکل سیلر نے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مستقبل کے حوالے سے دوستانہ موقف اختیار کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور پاکستان کی اس حوالے سے پیش رفت میں مشورہ دینے اور مدد کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے ذہین لوگ ہیں اور اس کے پاس عالمی سطح پر کاروبار کے لیے عزم بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی منڈیوں کے پاس فنانس کے مستقبل میں ابھرنے کا موقع ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کی ترقی اور اسے اپنانے میں گلوبل ساؤتھ کی قیادت کرنے کا خواہاں ہے، اور ڈیجیٹل معیشت میں جدت، ضابطے اور جامع ترقی کے لیے ایک معیار قائم کرنا چاہتا ہے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ ’پاکستان نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ مائیکل سیلر کی بصیرت اور قیادت نے بِٹ کوائن کو ایک خودمختار اثاثے کی شکل دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مسٹر سیلر نے 5 برسوں میں خالصتاً سٹریٹجک وژن، یقین اور نظم و ضبط کے ذریعے ایک درمیانے سائز کی سافٹ ویئر فرم کو ایک سو ارب ڈالر زائد کی کمپنی میں تبدیل کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق مائیکل سیلر کی کامیابی کی کہانی بے مثال ہے۔ انہیں بڑے پیمانے پر بٹ کوائن کو ادارہ جاتی سطح پر اپنانے والی سب سے زیادہ بااثر آوازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
مائیکل سیلر مائیکرو سٹریٹیجی کے شریک بانی اور چیئرمین ہیں، جو بٹ کوائن کے بڑے حامی اور سرمایہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
2020 میں اپنی بِٹ کوائن حکمت عملی شروع کرنے کے بعد سے کمپنی نے تقریباً پانچ لاکھ 82 ہزار بِٹ کوائن حاصل کیے ہیں جن کی مالیت جون 2025 تک 62 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مائیکل سیلر ب ٹ کوائن نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ