خیبر پختونخوا کے دو بڑے آئینی سربراہوں کے خرچے بڑھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال 2024.25 میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے لیے 80 کروڑ 50 لاکھ 91 ہزار روپے مختص تھے جبکہ 1 ارب 66 کروڑ 36 لاکھ 35 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے دو بڑے آئینی سربراہوں کے خرچے بڑھ گئے، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے رواں مالی سال کے دوران مختص بجٹ سے 85 کروڑ 85 لاکھ روپے اضافی جبکہ گورنر ہاؤس نے 9 کروڑ 91 لاکھ 43 ہزار روپے اضافی خرچ کر ڈالے، صوبے کی دنوں شخصیات نے تحفوں پر کروڑوں روپے اڑا دیئے، آئندہ بجٹ میں بھی اضافہ کردیا۔ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال 2024.
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کیلئے ایک ارب 41 کروڑ 97 لاکھ 60 ہزار مختص کیے گئے ہیں۔ گورنر ہاؤس سیکرٹریٹ کے لیے رواں سال 2024.25 کے لیے 50 کروڑ 76 لاکھ 48 ہزار روپے مختص کیے گئے تاہم 9 کروڑ 91 لاکھ 43 ہزا روپے اضافی خرچ کرکے بجٹ 60 کروڑ 67 لاکھ 91 ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا۔ نئے مالی سال 2025.26 کے دوران گورنر ہاؤس کے لیے 59 کروڑ 16 لاکھ 41 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہزار روپے مختص مالی سال کیے گئے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔