ریکوڈک منصوبے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی کل سرمایہ کار 700 ملین ڈالر تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے ملکی معیشت میں نئی روح پھونکنے کے لیے ریکوڈک منصوبے میں مزید 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا۔ریکوڈک منصوبے میں آئی ایف سی کی کل سرمایہ کاری 700 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، ریکوڈک منصوبے کی لاگت 6.6 بلین ڈالر ہے، مالیاتی اتحاد قرض و سرمایہ سے فنڈ فراہم کرے گا، ریکوڈک سے 37 سال میں 74 ارب ڈالر تک آمدن کی توقع ہے۔ریکوڈک منصوبے میں یو ایس ایگزِم، ایشیائی ترقیاتی بینک، کینیڈا اور جاپان کے مالیاتی اداروں کی شمولیت بھی متوقع ہے۔آئی ایف سی کے سربراہ مختار ڈیوپ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر، توانائی اور قدرتی وسائل پر توجہ بڑھا رہے ہیں، پاکستان میں توانائی و قدرتی وسائل میں دوگنا سرمایہ کاری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا تانبے اور سونے کا منصوبہ ریکوڈک 2028 میں پیداوار شروع کرے گا، ریکوڈک سے بلوچستان کی ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور پاکستان کو عالمی معدنیاتی نقشے پر لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اشتہار
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔