کیا خطے میں ایک نیا ورلڈ آرڈر لکھا جا رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
70 کی دہائی اور خاص طور پر اس کے اواخر میں ہونے والے واقعات کا پاکستان، پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور اس خطے پر بہت گہرا اثر تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اس وقت ایک نیا ورلڈ آرڈر لکھا گیا جس نے دنیا کی شناخت، ہیئت اور حیثیت ہی کو تبدیل کر دیا۔ ان سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیوں کے اثرات زیادہ تر منفی رہے۔ لیکن پاکستان، ایران، بنگلہ دیش، افغانستان میں 70 کی دہائی کے آخر تک بہت کچھ بدل گیا تھا۔ آج مڑ کر دیکھیں تو لگتا ہے کہ کسی نے دنیا کو نقشے پر لال رنگ کے دائرے لگا کر ملکوں کے نصیب بدل دیے تھے۔ پہلے ہم بات کریں گے کہ 70 کی دہائی میں کس ملک کےساتھ کیا ہوا اور پھر معروضی حالات کی مدد سے آج کے نئے ورلڈ آرڈر کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
سب سے پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ بھٹو دور کے آخری دن تھے۔ حکومت کے خلاف 9 ستارے گردش میں آ چکے تھے۔ ملک بھر میں یورش تھی۔ انتخابات کے نتائج پر کسی کو اعتماد نہیں تھا۔ دھاندلی، دھاندلی کا شور مچ رہا تھا۔ بھٹو صاحب حالات کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر یوں لگتا تھا کہ کوئی نادیدہ ہاتھ حالات کو پہلے سے زیادہ خراب کر رہا تھا۔ ہر آنے والا دن افواہوں، خدشات سے بھرا تھا۔ اسی اثنا میں اچانک خود ساختہ مرد مومن مرد حق نے 5 جولائی 1977 کو بھٹو حکومت کی بساط الٹ دی۔ تب 9 ستاروں کو پتہ چلا کہ وہ استعمال ہوئے ہیں۔
ضیاءالحق کے آنے کے بعد پاکستان بدل گیا۔ اس سے پہلے پاکستان ایک ترقی کرتا ملک تھا۔ دنیا ہماری معیشت کی تعریف کرتی تھی مگر پھر ہم افغان جنگ میں استعمال ہوئے، اپنے ملک کو برباد کیا۔ کلاشنکوف کلچر، دہشتگردی، لسانی سیاست اور ہیروئن کو اپنے ملک میں بسایا۔ سماج کو تباہ کیا گیا۔ اور جب یہ کام حضرت ضیاء الحق نے تسلی بخش طریقے سے کر دیا تو ایک دن ان کا جہاز پھٹ گیا۔ لیکن اس دور میں آنے والی تبدیلیوں کے اثرات اب تک پاکستان کو چاٹ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے حالات دیکھیں۔ اسی دہائی میں ایران میں شاہ کی حکومت کمزور پڑ رہی تھی۔ امام خمینی کے ظہور کا زمانہ قریب آ رہا تھا۔تہران کی ہر دیوار پر ’مرگ بر امریکا ‘ اور ’درود بر خمینی‘ کے نعرے لکھے تھے۔ پاسداران انقلاب کا بیج رکھا جا چکا تھا۔ شاہ کا تخت لرز رہا تھا۔ پھر ایک دن وہی ہوا جس کا شاہ کو ڈر تھا۔ انقلاب لانے والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ شاہ ایران نے 16 جنوری 1979 کو فرار ہونے ہی کو غنیمت جانا۔
امام خمینی نے پہلوی دور اقتدار کو ختم کر کے ’اسلامی‘ حکومت کی بنیاد ڈالی۔ یہ وہ تبدیلی تھی جس کا ایران پر آج تک اثر ہے۔ اس تبدیلی سے پہلے ایران ایک امیر، ترقی یافتہ ملک تھا۔ اس کی معیشت مثالی تھی۔ دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات قابل فخر تھا مگر انقلاب کے بعد ایران بہت بدل گیا۔
خواتین کے لیے مشکلات پیدا ہو گئیں، پردہ لازم قرار دیا گیا، انقلاب بسا اوقات جنون کی حد سے آگے گزر گیا۔ ایران نے اپنے آپ کو عراق جنگ میں جھونک دیا۔ بین الاقوامی پابندیوں سے عوام غریب تر ہوتے گئے اور معیشت بدحال ہو گئی۔ آج ایران اسرائیل سے دست و گریبان ہے۔ سب مسلمان ممالک کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں مگر ایران اس جنگ میں خود اپنا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہا ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب توجہ کریں تو شیخ مجیب الرحمان جس کو لوگ ’قوم کا باپ‘ کہتے تھے اس کو قتل کر دیا۔ جنرل ضیاالرحمان نے مارشل لا لگا دیا۔ یہ بنگلہ دیش کے لیے بہت بڑی تبدیلی تھی۔ اس کو پاکستان سے الگ ہوئے 4 سال ہی ہوئے تھے کہ اختلافات نے پوری قوم کو گھن کی طرح چاٹ لیا۔ اگست 1975 میں شیخ مجیب کے خاندان کے ایک ایک فرد کو چن چن کر قتل کر دیا گیا تھا۔
جنرل ضیا الرحمان نے اقتدار سنبھالا اور خود ساختہ ترامیم کے ذریعے 5 جولائی 1977 کو صدر بھی منتخب ہوئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی معیشت کو بہت سنبھالا دیا۔ لیکن ان کے قتل کے بعد جنرل حسین ارشاد کا دور آیا جو 90 تک چلا۔ لیکن جو کچھ بنگلہ دیش میں70 کی دہائی میں ہوا، اس کے اثرات بہت دیرپا رہے۔ اور آج بھی بنگلہ دیش بحرانوں کا مرکز ہے۔
70کی دہائی میں خطے میں سب سے بڑی تبدیلی افغانستان میں آئی۔ نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کی حکومتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔ روس نے 24 دسمبر 1979 کو افغانستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان اس لڑائی میں امریکی تائید سے کود پڑا۔ دنیا کی ایک بڑی جنگ اس خطے میں لڑی گئی۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کو شرمناک شکست ہوئی۔ جنگ کے بعد افغانستان طالبان کے قبضے میں آ گیا اور پوری دنیا کے لیے خطرے کی علامت بن گیا۔ اس سے پہلے کا افغانستان پرامن بھی تھا اور ماڈرن بھی۔ یہاں ترقی بھی ہو رہی تھی اور عوام بھی خوشحال تھے۔ جنگ نے پورا ملک اور خطہ ہی برباد کر دیا۔
70 کی دہائی گزر گئی اور اب 2025 ہے لیکن دنیا میں کچھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو بتا رہے ہیں کہ 70 کی دہائی کے زخموں پر مرہم رکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں ایک ایسی حکومت آ گئی ہے جو در پردہ طالبان سے چھٹکارا چاہتی ہے۔ بنگہ دیش میں حسینہ واجد کا ظالمانہ دور بیت گیا۔ ایران میں رجیم چینج کی آوازیں آ رہی ہیں اور اگر ایران اسی طرح اسرائیل سے شکست کھاتا رہا تو موجودہ ایرانی حکومت کو اپنے لیے قائم رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ پاکستان میں بھی بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ طالبان کے ہمدرد عمران خان نے جو کچھ اس ملک کےساتھ 2011 سے کیا، اس بدامنی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایک مستحکم حکومت وجود میں آ چکی ہے۔ معیشت کی بحالی کا سفر جاری ہو چکا ہے۔
یوں لگتا ہے 70 کی دہائی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر دنیا کو ایک نیا ورلڈ آرڈر دیا جا رہا ہے جس میں معیشت اور عوام کی بحالی بنیادی جزو ہے۔ شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف سب اکھٹے ہو رہے ہیں۔
یاد رکھیں! اگر دنیا اسی طرح ظلم سے نفرت کرتی رہی تو یاد رکھیے اسرائیل کا ظلم بھی نہیں رہے گا اور اس دفعہ تبدیلی بھارت میں بھی ہو گی اور مودی کی نفرت انگیز سیاست تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائے گی۔ جس طرح 70 کی دہائی نے دنیا تبدیل کر دی تھی اسی طرح اس دہائی میں ہونے والے واقعات سے لگتا ہے دنیا اب بھی بدلے گی لیکن اس دفعہ تاریخ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہو گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔
اردو کالم عمار مسعود.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اردو کالم ورلڈ آرڈر بنگلہ دیش دہائی میں کی دہائی سے پہلے رہا تھا رہے ہیں کے بعد کر دیا کے لیے رہا ہے میں ہو
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین